برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیئر سٹارمر نے کہا کہ اس دور میں ہزاروں ماؤں، خصوصاً کم عمر لڑکیوں، کو معاشرتی، ادارہ جاتی اور خاندانی دباؤ کے ذریعے اپنے نومولود بچوں سے جدا ہونے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں یہ باور کرایا جاتا تھا کہ بچوں کو گود دینا ہی ان کے لیے واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم ان تمام ماؤں سے تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں جنہیں ماں بننے کے قابل نہیں سمجھا گیا اور جنہیں ان بچوں کی پرورش سے محروم کر دیا گیا جن سے وہ بے پناہ محبت کرتی تھیں۔"

وزیراعظم نے متاثرہ خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "یہ شرمندگی آپ کی نہیں تھی، نہ کبھی تھی۔ یہ شرمندگی ہماری ہے۔"

کیئر سٹارمر نے ان تمام متاثرین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے برسوں تک انصاف اور سرکاری معافی کے لیے جدوجہد کی اور اپنی تکلیف دہ داستانیں عوام کے سامنے لانے کا حوصلہ دکھایا۔

یہ معذرت چار سال قبل پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے باضابطہ معافی کی سفارش کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا نے 2013 میں جبکہ آئرلینڈ نے 2021 میں ایسے ہی تاریخی واقعات پر متاثرہ خاندانوں سے سرکاری معذرت کی تھی۔

ڈاؤننگ سٹریٹ میں متاثرہ افراد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ ہزاروں ماؤں، بچوں اور خاندانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ریاست اس پورے نظام کی ذمہ دار تھی جس نے جبری گود لینے کے عمل کو قانونی اور مالی تحفظ فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس انتظامی ناکامی پر دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہے۔

تحقیقات کے دوران سابق لیبر وزیر صحت این کین نے بتایا کہ سنہ 1966 میں، جب وہ صرف 17 برس کی تھیں، ویلز میں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ان کا نومولود بیٹا ان سے چھین لیا گیا تھا۔

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ماؤں کے ساتھ مختلف طریقوں سے بدسلوکی کی جاتی تھی۔ کئی ہسپتالوں میں زچگی کے دوران اور اس کے بعد درد کم کرنے والی ادویات جان بوجھ کر بطور سزا نہیں دی جاتیں، جبکہ بعض مواقع پر نومولود بچوں کو روتی ہوئی ماؤں کی گود سے زبردستی الگ کر کے گود لینے کے لیے منتقل کر دیا جاتا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ چرچ آف انگلینڈ نے بھی زبردستی بچوں کو گود دینے کے عمل میں اپنے کردار پر باضابطہ معذرت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے افسوس کا اظہار کیا تھا۔