سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ملاقات سے متعلق بیان میں کہا کہ دونوں جانب سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت چیف آف اسٹاف کے اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کیا گیا، ملاقات میں سعودی عرب کو درپیش موجودہ سیکیورٹی خطرات اور مملکت میں شہری و معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

خالد بن سلمان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے والے حملوں کے علاوہ سعودی عرب کے شہری مراکز اور معاشی انفرااسٹرکچر کو لاحق خطرات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے ان حملوں کا مقابلہ کرنے اور سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کو یمن سے ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان نے بھی ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا اور مکہ مکرمہ، شہری آبادی اور معاشی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی تعاون، سیکیورٹی رابطہ کاری اور بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے میں یہ بھی درج ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کے تناظر میں حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطح کے رابطوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 31 اگست کو استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے موقع پر بھی شہزادہ خالد بن سلمان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ملاقات ہوئی تھی، جس میں دفاعی تعاون اور علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا۔

حالیہ ملاقات میں دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی رابطہ کاری اور مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ سعودی وزیر دفاع کے مطابق مملکت کو درپیش حملوں کے خلاف مشترکہ کوششیں معاہدے کی شقوں اور طے شدہ دفاعی تعاون کے فریم ورک کے مطابق جاری رہیں گی۔

ملاقات اور تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کے اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت باہمی دفاعی رابطوں اور عسکری تعاون کو عملی سطح پر مزید آگے بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں تینوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی صورتحال، دفاعی صلاحیتوں اور مشترکہ اقدامات سے متعلق مشاورت بھی جاری ہے۔