وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز قبول نہیں کی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی بات کی ہے۔ تاہم رائٹرز کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ایک سات روزہ روڈ میپ پیش کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران نے یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات شروع کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

عباس عراقچی کے مطابق اگر امریکا ایران کی شرائط قبول کرتا ہے تو منصوبے پر فوری عمل درآمد شروع کیا جاسکتا ہے، سات روزہ مدت کے اختتام پر آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق مجوزہ منصوبہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی بعض شرائط سے مشابہ ہے۔ عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران کی جانب سے پیش کردہ شرائط نئی نہیں بلکہ سابقہ مفاہمت میں شامل نکات سے قریب ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ امریکا کی جانب سے فوجی دباؤ میں کمی، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور تیل کی برآمدات سے متعلق پابندیوں میں نرمی جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد جوہری پروگرام پر وسیع تر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز موجودہ تنازع میں اہم سفارتی اور معاشی معاملہ بن چکی ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے کو سات روز میں کھولنے کی پیشکش کو جنگ کے خاتمے اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو مذاکرات کا مرکزی معاملہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھی صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس سے قبل نیویارک میں امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے بھی ملاقات کی تھی۔ یہ رابطے قطر کی ثالثی کے ذریعے ہوئے، تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان رابطوں کو کسی بڑے سفارتی بریک تھرو کے طور پر بیان نہیں کیا۔

یوں ایران کی جانب سے جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سات روزہ منصوبے کے باوجود واشنگٹن کی جانب سے اسے قبول نہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے نومبر کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی کے عندیے کی رپورٹ نے خطے میں جاری جنگ کے مستقبل اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کردیے ہیں، تاہم آئندہ مذاکرات اور جنگ کے اگلے مرحلے سے متعلق حتمی صورتحال ابھی واضح نہیں۔