نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور ہمیشہ امن کی امید اور دعا کرنی چاہیے، کیونکہ خطے میں حکمرانی، معاشی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پُرامن ماحول بنیادی ضرورت ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی سرحد یا خودمختاری سے متعلق کسی بھی اقدام کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، جس طرح ملکی سرحدوں کے خلاف کارروائی کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا، اسی طرح پاکستان کے پانی کے معاملے میں کسی قسم کی مداخلت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔

بھارت کے ساتھ آبی تنازع سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف پہلے ہی واضح ہے اور اس معاملے میں کوئی نئی بات نہیں، پاکستان اپنے قومی مفادات اور آبی سلامتی کے تحفظ کے لیے جو اقدامات ضروری سمجھے گا، وہ کرے گا اور کسی بھی ممکنہ کوشش کا جواب اپنی تمام دستیاب صلاحیتوں کے مطابق دیا جائے گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک اہم تنازع بنا ہوا ہے۔ جون 2026 میں بھی خواجہ آصف نے پانی کو پاکستان کی قومی سلامتی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت کی جانب سے پاکستان کے آبی مفادات کو سنگین خطرہ لاحق ہوا تو اسلام آباد فوجی کارروائی سمیت مختلف اقدامات پر غور کرسکتا ہے۔

وزیر دفاع نے تاہم خطے میں امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ ان کے مطابق جنگ یا تصادم کے بجائے خطے کے مسائل کا حل امن، سفارت کاری اور باہمی مفاہمت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

خواجہ آصف سے ایران کے حوالے سے ہونے والی ملاقاتوں اور پاکستان کے حالیہ دفاعی معاہدوں سے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔ ایران کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ ہونے والی گفتگو میں پاکستان کے دفاعی معاہدے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی اور ایرانی جانب سے بھی اس معاملے پر کسی قسم کے تحفظات کا اظہار نہیں کیا گیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اگر معاہدہ فعال ہوتا ہے تو پاکستان اپنے کیے گئے عہد کا پابند ہے اور معاہدے کی شرائط کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔ پاکستان پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش کسی غیر معمولی خطرے کی صورت میں معاہدے کے تحت طے شدہ ذمہ داریوں کو دیکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی رکن ملک پر جارحیت کی صورت میں اجتماعی دفاع کے اصول پر اتفاق کیا گیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں بھی پاکستانی حکام کی جانب سے معاہدے کی شرائط کی پاسداری کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے گفتگو کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترجیح امن اور علاقائی استحکام ہے، موجودہ علاقائی حالات میں کسی بھی ملک کی جانب سے ایسا اقدام جو دوسرے ملک کی سلامتی، خودمختاری یا بنیادی وسائل کو متاثر کرے، کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

وزیر دفاع کے بیان کے بعد ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی معاملات کی حساسیت نمایاں ہوئی ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پانی پاکستان کی معیشت، زراعت اور قومی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا معاملہ ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازع کے باعث آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر بھی یہ معاملہ اہم رہنے کا امکان ہے۔