شنگھائی میں عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ چین کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اگر برطانیہ واحد ملک بن جائے جو چین سے تعلقات قائم کرنے سے انکار کرے تو یہ قومی مفاد کے خلاف ہوگا۔

انہوں نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے حالیہ دورۂ چین اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے متوقع دورے کا حوالہ بھی دیا۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اور امریکا کے تعلقات بدستور قریبی ہیں اور واشنگٹن کو ان کے دورۂ چین سے آگاہ رکھا گیا تھا۔ برطانیہ کو امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔

برطانوی وزیرِاعظم نے بتایا کہ چین نے ان برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ پر عائد سفری پابندیاں بھی ہٹانے پر اتفاق کیا ہے جو ماضی میں چین کی انسانی حقوق اور سیکیورٹی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر کا تین گھنٹے طویل دورۂ چین کے دوران صدر شی جن پنگ سے مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں چین نے برطانوی وہسکی پر عائد ٹیرف میں کمی اور ویزا قوانین میں نرمی پر آمادگی ظاہر کی۔

اس کے علاوہ برطانیہ کے پیشہ ورانہ خدمات کے شعبے کو چینی منڈی تک بہتر رسائی دینے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا چین کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانا  خطرناک  ثابت ہو سکتا ہے، ٹرمپ

واشنگٹن میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ  بہت خطرناک  ہے، تاہم انہوں نے اس بیان کی مزید وضاحت نہیں کی۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کینیڈا کو بھی چین کے ساتھ معاہدوں پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس دورے کے دوران سب سے بڑا سرمایہ کاری معاہدہ برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا کی جانب سے سامنے آیا، جس نے چین میں 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جب کہ چین کی جانب سے برطانیہ میں کچھ چھوٹی سرمایہ کاریوں کا بھی اعلان کیا گیا۔

یاد رہے کہ کیئر اسٹارمر کی لیبر حکومت جولائی 2024 میں اقتدار میں آنے کے بعد معاشی ترقی کے وعدے پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہے، جس کے باعث حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔