سابق کابینہ وزیر، جنہیں گزشتہ برس امریکا میں برطانوی سفیر کے عہدے سے ایپسٹین سے پرانے روابط کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا، امریکی محکمۂ انصاف کی حالیہ جاری کردہ دستاویزات میں دوبارہ سامنے آئے ہیں۔

ان دستاویزات کے مطابق جیفری ایپسٹین نے 2003 اور 2004 کے دوران تین علیحدہ ادائیگیوں کی صورت میں مجموعی طور پر 75 ہزار ڈالر لارڈ مینڈلسن کو دیے تھے۔

لیبر پارٹی کے جنرل سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں لارڈ مینڈلسن نے کہا کہ ایپسٹین سے متعلق تنازع پر انہیں افسوس اور ندامت ہے، اور وہ نہیں چاہتے کہ اس معاملے سے پارٹی کو مزید نقصان پہنچے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مالی ادائیگیوں سے متعلق الزامات جھوٹے ہیں اور انہیں ان کی کوئی یاد یا ریکارڈ موجود نہیں، تاہم وہ خود ان معاملات کی تحقیق کریں گے۔

لارڈ مینڈلسن نے ایپسٹین کے متاثرین سے ایک بار پھر معافی مانگی اور کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی لیبر پارٹی کی اقدار اور کامیابی کے لیے وقف کی ہے۔

لیبر پارٹی کے رکن گورڈن مککی نے کہا کہ ایپسٹین کے متاثرین ان انکشافات پر بجا طور پر غصے میں ہوں گے، اور لارڈ مینڈلسن کا استعفیٰ ایک درست قدم ہے۔

کنزرویٹو پارٹی نے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں لارڈ مینڈلسن کو خود استعفیٰ دینے کے بجائے پارٹی سے نکال دینا چاہیے تھا۔

امریکی محکمۂ انصاف کی نئی فائلوں میں بینک اسٹیٹمنٹس اور ای میلز شامل ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کسی کا نام یا تصویر ہونا بذاتِ خود کسی غلط کام کا ثبوت نہیں ہوتا۔