جامعات کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی امتیازی پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ رسک مینجمنٹ کی ضرورت ہے، کیونکہ دونوں ممالک سے ویزا ریجیکشن کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کا براہِ راست اثر پاکستان اور بنگلہ دیش کے اُن طلبہ پر پڑا ہے جو برطانیہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک مستحکم اور واضح راستہ سمجھتے تھے۔

آن لائن پلیٹ فارم ریڈیٹ پر، پاکستانی و بنگلہ دیشی صارفین اس صورتِ حال پر تشویش، مایوسی اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک صارف نے اس رجحان کو برطانیہ میں بڑھتے ہوئے مسلم مسئلہ والے سیاسی بیانیے سے جوڑا، جب کہ دوسرے صارف نے الجھن ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں اگلے سال ماسٹرز کے لیے منصوبہ بنا رہا تھا۔ کیا مجھےاب غمگین ہونا چاہیے یا خوش؟

یہ احساس کئی طلبہ میں پایا جاتا ہے جو فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ اپنے منصوبے موخر کریں یا کسی اور ملک کا رخ کریں۔

Posts from the pakistan
community on Reddit

اسی طرح ایک اور صارف کے مطابق برطانوی حکومت پر اندرونی دباؤ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر ان طالب علم ویزا ہولڈرز کی وجہ سے جو اپنے انحصار کرنے والوں کے ساتھ برطانیہ آئے۔ ان کے مطابق ہوم آفس کا موجودہ بحران بریگزٹ کے بعد کی صورت حال نے مزید خراب کیا ہے۔

کچھ صارفین نے معاملے کا دوسرا رخ بھی اجاگر کیا کہ کچھ پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ اسٹڈی ریزیڈنس پرمٹس کا غلط استعمال کرتے ہیں، جس سے نظام کے اندر موجود خامیوں کو تقویت ملتی ہے۔ ان کے مطابق ویزا سختی جزوی طور پر ایسی ہی غلطیوں کا ردعمل بھی ہے۔

فی الحال دونوں ممالک کے طلبہ کو انتظار ہے کہ آیا یونیورسٹیاں پالیسیوں میں لچک دکھاتی ہیں یا ہوم آفس مزید سخت لائحہ عمل اختیار کرتا ہے۔ اس بحث نے تعلیم تک رسائی، امیگریشن کنٹرول اور موقع کے توازن کے بارے میں ایک وسیع سوال کھڑا کر دیا ہے۔

آخر میں ایک سوال جو موجود رہے گا کہ کیا یہ پابندیاں محض عارضی اصلاحات ہیں، یا مستقبل میں یہ دروازے مستقل طور پر تنگ کیے جا رہے ہیں؟