کینسنگٹن پیلس کے مطابق شہزادہ ولیم نے ان بچوں کے حوصلے اور ہمت سے متاثر ہوتے ہوئے کہا کہ ان بچوں نے ایسے حالات کا سامنا کیا جو کسی بھی بچے کو کبھی نہیں کرنے چاہئیں۔
برطانوی محکمہ صحت کے مطابق غزہ سے تعلق رکھنے والے دو بچوں کو مئی میں خصوصی طبی امداد کے لیے برطانیہ لایا گیا تھا اور پھر خزاں کے آغاز سے مزید بچوں کی منتقلی کا عمل شروع ہوا تھا اور اب تک پچاس بچوں کو برطانیہ لایا جا چکا ہے، جب کہ ان کے اہلِ خانہ بھی ساتھ موجود ہیں۔
خبررساں ادارے سکائی نیوز کے مطابق کینسنگٹن پیلس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہز رائل ہائینس، دی پرنس آف ویلز، نے حال ہی میں غزہ کے چند ایسے بچوں سے ملاقات کی جو اس وقت برطانیہ میں خصوصی نگہداشت حاصل کر رہے ہیں۔ شہزادہ ان کم عمر بچوں کو ایک لمحہ سکون دینا چاہتے تھے، جو ایسے تجربات سے گزرے ہیں جن کی اذیت الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ شہزادہ ولیم محکمہ صحت کی اُن ٹیموں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں جو مشکل ترین صورتحال میں غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور انسانیت کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں۔
یاد رہے کہ 2018 میں شہزادہ ولیم مغربی کنارے کے ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ کا دورہ کرنے والے شاہی خاندان کے پہلے فرد بنے تھے۔
برطانوی حکومت کے ترجمان کے مطابق غزہ سے لائے گئے 50 مریض اور ان کے اہلِ خانہ اب ایک محفوظ اور معاون ماحول میں زیرِ علاج ہیں۔ جنگ بندی کے بعد یہ وقت انتہائی اہم ہے کہ امداد میں اضافہ کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ضروری ادویات اور طبی سامان غزہ تک پہنچے، تاکہ وہاں کے خاندان اپنی بنیادی صحت کی ضروریات پوری کر سکیں۔ برطانیہ غزہ کے لوگوں کو صحت سے متعلق ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
سال کے آغاز میں شہزادہ ولیم نے لندن کے گنرزبری پارک میں انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے لیے پہلی عالمی یادگار کے افتتاح کے موقع پر دنیا بھر کے امدادی کارکنوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا تھا۔
انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ دنیا کے مختلف خطوں یوکرین، سوڈان، میانمار، ہیٹی اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور تشدد کے متاثرین کی تکالیف ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ لیکن ان تمام سنگین حالات میں بھی انسانی ہمدردی کے کارکن مشترکہ انسانیت کا روشن چراغ بن کر کھڑے رہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے آج غزہ کے لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔






