برطانوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ سال اگست میں پیش آیا، جب عبداللہ تنولی لیسٹر اسکوائر میں ایک دکان پر سکیورٹی گارڈ کے طور پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ اس دوران چاقو سے مسلح ایک حملہ آور نے 11 سالہ بچی پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم عبداللہ تنولی نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے بچی کی جان بچا لی۔
عدالت میں سماعت کے دوران جج نے عبداللہ تنولی کی جرات، حاضر دماغی اور فوری اقدام کی بھرپور تعریف کی اور عوامی فنڈز سے ایک ہزار پاؤنڈ بطور انعام دینے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے حملہ آور پون پنٹارو کو ہائی سکیورٹی مینٹل ہسپتال منتقل کرنے کا بھی حکم دیا۔
British judge praises Pakistani youth Abdullah Tanoli, ordering a £1,000 reward for saving an 11-year-old girl from a knife attack. pic.twitter.com/LxDqmd22Mb
— Mansoor Ahmed Qureshi (@MansurQr) December 20, 2025
رپورٹ کے مطابق عبداللہ تنولی نے بچی کی چیخیں سن کر فوراً صورتحال کا جائزہ لیا اور دیگر سکیورٹی گارڈز کی مدد سے حملہ آور کو پولیس کے پہنچنے تک قابو میں رکھا، جس کے باعث ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔
واقعے کے بعد عبداللہ تنولی کو برطانیہ بھر میں ایک ہیرو کے طور پر سراہا جا رہا ہے، جب کہ انہیں مختلف اداروں کی جانب سے اعزازات اور تعریفی اسناد سے بھی نوازا جا چکا ہے۔





