عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق مینڈلسن کو ستمبر میں اُس وقت برطرف کیا گیا جب ایسی ای میلز منظرِ عام پر آئیں جن سے ظاہر ہوا کہ ایپسٹین کے ساتھ اُن کے تعلقات پہلے سے بتائے گئے تعلق سے کہیں زیادہ گہرے تھے۔ ایک سینئر برطانوی سیاست دان ہونے کے ناطے مینڈلسن نے ایپسٹین کو اپنا بہترین دوست قرار دیا تھا اور جیل سے قبل از وقت رہائی کے لیے اسے مشورے بھی دیے تھے۔
عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی سے انٹرویو میں ان سے اپنے روابط پر معافی مانگنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو مینڈلسن کا کہنا تھا کہ میں ان خواتین سے اس نظام کی ناکامی پر معذرت کرنا چاہتا ہوں، جس نے ان کی آواز سننے سے انکار کیا اور انہیں وہ تحفظ فراہم نہیں کیا جس کی وہ حقدار تھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے ذاتی تعلقات پر صرف اسی صورت معافی مانگتے اگر انہیں ایپسٹین کے جرائم کا علم ہوتا یا وہ کسی طور اس میں شریک ہوتے۔
ان کا کہنا تھاکہ میں قصوروار نہیں تھا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ میں نے اس کی کہانی اور اس کے وکیل کی باتوں پر یقین کیا، جو مجھے بار بار یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ نوجوان خواتین کے ساتھ اس کے معاملات میں اسے غلط طور پر مجرم بنایا گیا ہے۔ اب مجھے افسوس ہے کہ میں نے اس کہانی پر یقین کیا۔
برطانوی حکومت نے مینڈلسن کی برطرفی کے وقت کہا تھا کہ ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت، ان کی تقرری کے وقت معلوم معلومات سے کافی حد تک مختلف ثابت ہوئی ہے۔
بعد ازاں حکومت نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے ایک نازک مرحلے پر کرسچن ٹرنر کو امریکا میں نیا سفیر مقرر کر دیا۔
“I was not culpable”
— BBC Politics (@BBCPolitics) January 11, 2026
Former US ambassador Lord Mandelson does not apologise for his association with Jeffrey Epstein but says “I want to apologise to those women for a system that refused to hear their voices”#BBCLauraK https://t.co/CkTHGcuwTS pic.twitter.com/9lfWUZqMeh
انٹرویو کے دوران سابق برطانوی سفیر کا کہنا تھا کہ کیا واقعی آپ سمجھتے ہیں کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ ان کمزور نوجوان خواتین کے ساتھ کیا کر رہا ہے تو میں خاموش رہتا، اسے نظرانداز کرتا اور آگے بڑھ جاتا؟ انہوں نے ایپسٹین کو ایک شیطانی درندہ قرار دیا۔
مینڈلسن نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایپسٹین کے حلقے میں ایک ہم جنس پرست شخص ہونے کے باعث انہیں اس کی جنسی زندگی کے پہلو سے الگ رکھا گیا تھا۔






