انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو پوری دنیا کے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث ہوگا، خصوصاً مغویوں، ان کے اہلِ خانہ اور غزہ کی شہری آبادی کے لیے، جنھوں نے گزشتہ دو برسوں میں ناقابلِ بیان مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ وہ مصر، قطر، ترکی اور ریاستہائے متحدہ کی انتھک سفارتی کوششوں کا شکر گزار ہیں، جنہوں نے اُن کے علاقائی شراکت داروں کو تعاون فراہم کیا تاکہ اس اہم پہلے قدم کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کو اب بلا تاخیر مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی غزہ میں زندگی بچانے والی انسانی امداد پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جانی چاہئیں۔

برطانوی وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ وہ تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے کیے گئے وعدے پورے کریں، جنگ ختم کریں اور تنازع کے منصفانہ و دیرپا خاتمے کے لیے بنیاد رکھیں، تاکہ طویل مدتی امن کے لیے ایک پائیدار راستہ اختیار کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ ان فوری اقدامات اور امن منصوبے کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ مذاکرات کے مرحلے کی بھرپور حمایت کرے گا۔

واضح رہے کہ آج حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جاری جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے جس پوری دنیا میں سراہایا جا رہا ہے۔