خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ریگولیٹر  ادارے کا کہنا تھا کہ تینوں کمپنیوں نے ’پائیدار‘، ’پائیدار مواد‘ اور ’پائیدار انداز‘ جیسے الفاظ بغیر واضحات اور قابلِ تصدیق ثبوت کے استعمال کیے، جس سے لوگوں میں ان مصنوعات کے اصل ماحولیاتی اثرات کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق جون میں گوگل پر جاری کیے گئے ایک اشتہار میں نائکی نے ’پائیدار مواد‘ سے بنائی گئی ٹینس پولو شرٹس کی تشہیر کی تھی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ اصطلاح عمومی تھی اور ری سائیکل شدہ پالئیےسٹر سے تیار کردہ مصنوعات کی طرف اشارہ کرتی تھی۔

تاہم اے ایس اے نے کہا کہ یہ دعویٰ مطلق نوعیت کا تھا اور اس کے لیے ٹھوس سائنسی ثبوت ضروری تھے۔ ادارے کے مطابق نائکی یہ بتانے میں ناکام رہی کہ یہ شرٹس واقعی ماحول پر بہت کم یا نہ ہونے کے برابر اثرات ڈالتی ہیں۔

نائکی نے کہا کہ وہ اے ایس اے کے ساتھ رابطے میں ہے اور ضروری اقدامات کر رہی ہے، اور یہ کہ ہم صارفین کو صاف، درست اور واضح معلومات مہیا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔

جون میں ہی جاری کیے گئے سپرڈری کے ایک اشتہار میں پائیدار انداز  کا جملہ استعمال کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ فیشن اور پائیداری کو یکجا کرکے ایک ذمہ دار انتخاب پیش کیا جا رہا ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ دعویٰ اُن کلیکشنز کے لیے تھا جن میں پائیدار ذرائع سے حاصل کردہ مواد استعمال کیا گیا تھا اور اس سے یہ تاثر نہیں ملتا تھا کہ سپرڈری کی تمام مصنوعات پائیدار ہیں۔

اے ایس اے کے مطابق اگرچہ 2024 میں سپرڈری کی 64 فیصد مصنوعات میں ایسے مواد شامل تھے، لیکن اس کے باوجود پائیدار جیسا غیر مشروط لفظ مبہم اور غیر واضح تھا۔ ادارے نے کمپنی کی جانب سے اشتہار ہٹانے کے اقدام کو درست قرار دیا۔

دوسری جانب لاکوسٹ نے بچوں کے کپڑوں کے لیے گوگل کے اشتہار میں پائیدار کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

کمپنی نے اعتراف کیا کہ ایسے ماحول دوست دعووں کی تصدیق مشکل ہوتی ہے اور شکایت ملتے ہی اشتہار واپس لے لیا گیا۔

لاکوسٹ نے وعدہ کیا کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے غیر واضح ماحولیاتی دعووں سے پرہیز کرے گی۔

اے ایس اے کی گرین پروجیکٹ ٹیم کے آپریشن منیجر جسٹن گریملی کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ لوگ ماحول کے لیے بہتر اور سبز انتخاب کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ مشتہرین ماحولیاتی دعووں میں مکمل شفافیت اختیار کریں۔ بڑے یا غیر ثابت شدہ دعوے انتہائی گمراہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان نئے فیصلوں سے برانڈز کو ایک واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ ماحول دوست دعووں کو مضبوط، قابلِ تصدیق اور سائنسی شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہے۔