برطانوی میڈیا کے مطابق منصوبے کے تحت اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ اسکولوں میں لڑکوں میں عورت دشمنی کی ابتدائی علامات کی شناخت کر سکیں۔
اس پروگرام کے دائرہ کار میں رضامندی، صحت مند تعلقات اور آن لائن خطرات سے متعلق تعلیم کو اسکولوں میں لازمی قرار دیا جائے گا۔
حکومت نے نوجوانوں میں غلط نظریات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 20 ملین پاؤنڈ کا خصوصی پیکج بھی متعارف کرایا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ خطرے میں موجود طلبہ کے لیے رویہ جاتی اصلاحی پروگرام اور نوعمر افراد کے لیے تعلقات میں بدسلوکی کے حوالے سے نئی ہیلپ لائن قائم کی جائے گی۔
Boys as young as 11 could be sent on anti-misogyny classes as part of the government s long-awaited strategy to tackle violence against women and girls.
— Good Morning Britain (@GMB) December 18, 2025
Richard asks @jessphillips how the government will tackle what young people see online. pic.twitter.com/76klI3Ok2f
حکومت کا مؤقف ہے کہ عورت دشمنی کی جڑیں بچپن میں ہی ختم کرنا ضروری ہیں۔ سروے کے مطابق 13 سے 15 سال کے ہر پانچ میں سے ایک لڑکا معروف سماجی میڈیا پرسنلٹی اینڈریو ٹیٹ کو مثبت طور پر دیکھتا ہے۔
اساتذہ کی تنظیموں نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم آن لائن مواد پر سخت کنٹرول کے لیے بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول اکیلے یہ مسئلہ حل نہیں کر سکتے، والدین اور دیگر اداروں کو بھی اس میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔





