عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ نیا ادارہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کام کو یکجا کرے گا، جو اس وقت انسدادِ دہشت گردی، نیشنل روڈ پولیسنگ اور منشیات و انسانی سمگلنگ جیسے سنگین منظم جرائم کی تحقیقات سمیت دیگر ملک گیر ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔
اس ادارے کے قیام کے بعد اس کا سربراہ، جسے نیشنل کرائم کمشنر کہا جائے گا، ملک کا اعلیٰ ترین پولیس افسر ہو گا۔ اس وقت یہ اعزاز لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے سربراہ کے پاس ہے، جو برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والا سب سے سینئر اہلکار سمجھا جاتا ہے۔
BREAKING: A "British FBI" will be created to fight the most serious crime and help local police forces focus on tackling everyday offences.https://t.co/CxxHyvjVBE
— Sky News (@SkyNews) January 24, 2026
📺 Sky 501 and YouTube pic.twitter.com/zl54AVUo6U
نیشنل پولیس سروس کا قیام ان بڑی پولیس اصلاحات کا حصہ ہو گا جن کا اعلان حکومت پیر کے روز کرنے جا رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات 1829 میں رابرٹ پیل کی جانب سے پہلی پیشہ ورانہ پولیس فورس کے قیام کے بعد پولیسنگ میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی ہوں گی۔
سکریٹری داخلہ شبانہ محمود نے ایک بیان میں کہا کہ پولیسنگ کا موجودہ ماڈل ایک مختلف صدی کے لیے بنایا گیا تھا۔
امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سے تشبیہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایک نئی قومی پولیس سروس قائم کریں گے، جسے ’برطانوی ایف بی آئی‘ کہا جائے گا، جہاں خطرناک مجرموں کا سراغ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے عالمی معیار کی مہارت اور جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔
UK to create new British FBI police service https://t.co/pK0bNPldlb https://t.co/pK0bNPldlb
— Reuters (@Reuters) January 25, 2026
اس وقت انگلینڈ اور ویلز میں 43 مقامی پولیس فورسز موجود ہیں، جن میں سے بعض قومی سطح پر بھی کردار ادا کرتی ہیں، جیسے لندن کی پولیس جو انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ دار ہے۔
شبانہ محمود کے مطابق اس تبدیلی سے مقامی پولیس فورسز کو روزمرہ جرائم پر زیادہ توجہ دینے کا موقع ملے گا، جیسے دکانوں سے چوری، غیر سماجی رویے، اور مجرموں کو ان ہی کے علاقوں میں پکڑنا۔
یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ پیر کو اعلان کی جانے والی ان اصلاحات کے تحت حکومت برطانیہ میں پولیس فورسز کی مجموعی تعداد میں کمی کرے گی، تاکہ اخراجات میں بچت کی جا سکے اور جرائم کی شرح کم کی جا سکے۔





