واشنگٹن میں ایک فلم کی تقریب سے قبل صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا بیجنگ کے ساتھ قریبی کاروباری تعاون ایک خطرناک راستہ ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید وضاحت نہیں کی۔

دوسری جانب کیئر اسٹارمر چین کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات کی۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، سیکیورٹی، ٹیرف میں کمی اور مارکیٹ تک رسائی جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ غیر رسمی گفتگو میں فٹبال اور شیکسپیئر کا ذکر بھی ہوا۔

برطانوی وزیرِاعظم نے چین کے ساتھ تعلقات کو  مزید سنجیدہ اور بالغ  بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ویزا فری سفری سہولت اور وہسکی پر چینی ٹیرف میں کمی جیسے معاہدے نہ صرف علامتی بلکہ عملی پیش رفت ہیں، جو باہمی اعتماد کو مضبوط کریں گے۔

ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے برطانیہ کے تجارتی امور کے وزیر کرس برائنٹ نے کہا کہ امریکی صدر کا مؤقف درست نہیں، برطانیہ چین کے ساتھ تعلقات میں  آنکھیں کھلی رکھ کر  آگے بڑھ رہا ہے اور ممکنہ خدشات سے مکمل آگاہ ہے۔

کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ کو امریکا اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ امریکا کے ساتھ دفاع، سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور تجارت میں برطانیہ کے تعلقات بدستور مضبوط ہیں، جب کہ چین کے ساتھ معاشی روابط میں اضافہ بھی قومی مفاد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ بغیر امریکا کو ناراض کیے چین کے ساتھ معاشی تعلقات بہتر بنا سکتا ہے، برطانوی وزیرِاعظم

خیال رہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ کی غیر متوقع تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف دھمکیوں نے یورپی اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اسی تناظر میں جرمنی، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں نے بھی حالیہ مہینوں میں چین کے دورے کیے ہیں۔

برطانوی حکومت چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر اپنی سست معاشی نمو کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اس پالیسی کو برطانیہ اور امریکا دونوں میں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی ہے۔