عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ گرفتاری منگل کے روز لندن کے مالیاتی علاقے اسکوائر مائل میں واقع ایک انشورنس کمپنی کے دفتر کے باہر عمل میں آئی۔

یہ احتجاج فلسطین ایکشن گروپ سے تعلق رکھنے والے ان کارکنان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کیا گیا تھا جو اس وقت برطانوی جیلوں میں قید ہیں، جن میں سے چھ قیدی بھوک ہڑتال پر ہیں۔

ان میں سے دو قیدیوں کو طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ قیدیوں کے مطالبات میں برطانیہ میں ایل بٹ سسٹمز کی فیکٹریوں کی بندش بھی شامل ہے۔

احتجاجی مہم چلانے والے گروپس نے تصدیق کی ہے کہ گریٹا تھنبرگ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ قیدیوں کے حق میں منعقدہ فلسطین نواز احتجاج میں شریک تھیں۔

مظاہرے کے منتظمین نے مزید بتایا کہ احتجاج کے لیے اسپن انشورنس کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ ادارہ اسرائیل کے سب سے بڑے اسلحہ ساز ادارے ایل بٹ سسٹمز سے منسلک ہے، جو اسرائیلی فوج کے لیے ڈرونز اور دیگر دفاعی سازوسامان تیار کرتا ہے۔

گروپ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں گریٹا تھنبرگ کو ایک پلے کارڈ اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر فلسطین ایکشن کے قیدیوں کی حمایت اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مخالفت درج تھی۔

خیال رہے کہ گریٹا تھنبرگ ماضی میں بھی غزہ پر اسرائیلی جنگ کو نسل کشی قرار دے چکی ہیں اور محصور غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا مہمات میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔

سٹی آف لندن پولیس نے تصدیق کی ہے کہ 22 سالہ خاتون کو ایک کالعدم تنظیم کی حمایت میں پلے کارڈ اٹھانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے مطابق فلسطین ایکشن گروپ کو برطانوی حکومت دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے اور اس کی حمایت دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت جرم ہے۔

پولیس نے مزید بتایا کہ صرف گریٹا تھنبرگ ہی نہیں بلکہ اس احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک مرد اور ایک خاتون کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتاری سے بچنے کے لیے ان مرد اور خاتون نے مبینہ طور پر عمارت کے قریب خود کو چھپا لیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے اسپن انشورنس کی عمارت کو ہتھوڑوں اور سرخ پینٹ سے نقصان پہنچایا۔

احتجاج منعقد کرنے والے گروپ ڈیفینڈ آور جیوریز نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سرخ رنگ کو علامتی طور پر خون کی نمائندگی کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی جانب توجہ دلائی جا سکے۔

چند روز قبل گریٹا تھنبرگ نے انسٹاگرام پر بھی بھوک ہڑتالی قیدیوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مداخلت کرے اور ان مطالبات کو تسلیم کرے جو ایک نسل کشی کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

فلسطین ایکشن کے ترجمان نے گریٹا تھنبرگ کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ پولیس نے قانون کی غلط تشریح کی ہے یا پھر فلسطینی قیدیوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔