برطانوی میڈیا کے مطابق لندن ہائی کورٹ میں نجی معلومات کی خلاف ورزی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران شہزادہ ہیری بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔
Prince Harry has broken down in tears at the High Court as he gave evidence for the first time in his case against the publishers of the Daily Mail.
— Channel 5 News (@5_News) January 21, 2026
He s part of a group who claim information was gathered unlawfully by methods like phone hacking. ANL denies the claims. pic.twitter.com/WrrTJw7CAC
بھرا ہوا لہجہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیلی میل اور اس کے ناشر ادارے ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے ان کی اہلیہ میگھن مارکل کی زندگی کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے شہزادہ ہیری نے مزید کہا کہ 2022 میں مقدمہ دائر کرنے کے بعد ان کے خلاف میڈیا کا رویہ مزید جارحانہ ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اخبار کے مالکان سے صرف معافی اور جوابدہی چاہتے تھے، مگر اس کے بجائے انہیں ایک بار پھر اسی اذیت ناک تجربے سے گزارا جا رہا ہے۔
شہزادہ ہیری نے ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے دفاع کو قابلِ نفرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے اپنی نجی زندگی کے تحفظ کا بنیادی حق چھینا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر ان تمام واقعات کا دوبارہ سامنا کرنا ایک بار پھر صدمے کو دہرانے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے صحافیوں نے جائز ذرائع، بشمول مشہور شخصیات کے قریبی حلقوں، سے معلومات حاصل کیں۔
Prince Harry becomes emotional in court as he says press made Meghan s life "an absolute misery" https://t.co/wIetey5lV3
— BBC Breaking News (@BBCBreaking) January 21, 2026
تاہم شہزادہ ہیری نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی صحافی کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہیں رہا۔
یہ مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں نو ہفتوں تک جاری رہے گا، جبکہ اداکارہ الزبتھ ہرلی جمعرات کو عدالت میں گواہی دیں گی۔
واضح رہے کہ 41 سالہ ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری اور دیگر چھ مدعیان، جن میں معروف گلوکار ایلٹن جان بھی شامل ہیں، ڈیلی میل کے ناشر ادارے کے خلاف مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ اخبار پر الزام ہے کہ اس نے ان کی نجی زندگی میں غیرقانونی مداخلت کی، جس میں فون ہیکنگ، خفیہ نگرانی اور دھوکے سے معلومات حاصل کرنا شامل ہے۔





