بیجنگ میں آٹھ برس بعد کسی برطانوی وزیراعظم کی میزبانی کرتے ہوئے چین نے برطانوی شہریوں کے لیے 30 دن کی ویزا فری سہولت دینے اور چینی منڈی میں وہسکی پر عائد ٹیرف نصف کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جب کہ برطانیہ کی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا نے چین میں 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔

وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات اور ظہرانے میں شرکت کی، جس کے دوران تجارت، سلامتی، یوکرین جنگ کے ساتھ ساتھ فٹبال اور شیکسپیئر جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

اسٹارمر نے اس موقع پر چین کے ساتھ  زیادہ پختہ اور متوازن تعلقات  کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتر مارکیٹ رسائی، کم ٹیرف اور سرمایہ کاری معاہدے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم نے چین کے ساتھ تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح قرار دیا۔ تاہم اس پالیسی پر بعض برطانوی اور امریکی سیاستدانوں نے تنقید کی ہے، جو چین پر صنعتی سطح کی جاسوسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

اسٹارمر نے کہا کہ قریبی تعلقات اختلافات پر کھلے اور دوٹوک مکالمے کا موقع بھی فراہم کریں گے۔ چین عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی ہے، ہمیں ایسے تعلقات بنانے ہوں گے جہاں تعاون کے مواقع بھی ہوں اور اختلافات پر بامعنی گفتگو بھی ممکن ہو۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ماضی میں تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا، جو دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں تھا، تاہم اب چین برطانیہ کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے لیے تیار ہے۔ ہم ایسا نتیجہ دے سکتے ہیں جو تاریخ کے امتحان پر پورا اترے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ انہوں نے ہانگ کانگ کے معروف میڈیا ٹائیکون اور برطانوی شہری جمی لائی کے مقدمے پر بھی صدر شی کے ساتھ احترام پر مبنی گفتگو کی۔

دورے کے دوران برطانوی اور چینی حکام نے غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر بھی اتفاق کیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس شیئر کریں گے اور چھوٹی کشتیوں میں استعمال ہونے والے چینی انجنوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کریں گے، جن کے ذریعے افراد چینل عبور کر کے برطانیہ میں پناہ کے خواہاں ہوتے ہیں۔

چینی وزیر تجارت وانگ وینتاؤ نے کہا کہ بیجنگ برطانیہ کے ساتھ سروسز ٹریڈ کو فروغ دینا، اعلیٰ معیار کی برطانوی مصنوعات درآمد کرنا اور اس کے بدلے برطانیہ میں چینی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ پیش گوئی ماحول چاہتا ہے۔

دورے کے اختتام پر وزیراعظم اسٹارمر نے ملاقات کو “گرم جوش اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات اب مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ظہرانے کے دوران دونوں رہنماؤں نے انگلش پریمیئر لیگ فٹبال پر بھی گفتگو کی، جس کا چین میں بڑا مداح طبقہ موجود ہے اور اسٹارمر نے صدر شی جن پنگ کو مانچسٹر یونائیٹڈ اور آرسنل کے میچ میں استعمال ہونے والی فٹبال بھی بطور تحفہ پیش کی۔

واضح رہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر یقینی تجارتی پالیسیوں نے مغربی اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، جب کہ جرمن چانسلر کے بھی جلد چین کے دورے کی توقع ہے۔