یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب ریوز نے بدھ کو 26 ارب پاؤنڈ کے نئے ٹیکسز کا اعلان کیا، جو ان کے گزشتہ سال کے 40 ارب پاؤنڈ کے اضافے کے بعد ایک اور بڑا اقدام ہے۔ میڈیا انٹرویوز میں ان سے اس فیصلے پر سخت سوالات ہوئے کہ انہوں نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے دو بچوں کی حد کیوں ختم کی۔
ریوز نے LBC ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ بچوں کو اس ظالمانہ پالیسی کی وجہ سے سزا ملنی چاہیے، اس کا سماج پر بڑا بوجھ پڑ رہا ہے۔
کنزرویٹو پارٹی نے الزام لگایا کہ ریوز محنت کشوں سے پیسے لے کر فلاحی بجٹ بڑھا رہی ہیں تاکہ اپنی پارٹی کے ناراض ارکان کو مطمئن کیا جا سکے۔ اخبارات نے بھی سخت ردعمل دیا، جب کہ میٹرز نے سرخی لگائی “You re Paying!”
ریوز نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس بڑھانے کا سبب برطانیہ کی کمزور ہوتی پیداواری صلاحیت ہے جو بجٹ واچ ڈاگ OBR نے اپنی تازہ رپورٹ میں ظاہر کی ہے۔
ریزلویشن فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ریوز نے مسلسل دو سال میں جتنے ٹیکس بڑھائے ہیں وہ کسی نئی حکومت کے لیے تاریخی اضافہ ہے۔ OBR کے مطابق دہائی کے اختتام تک فلاحی اخراجات 16 ارب پاؤنڈ زیادہ ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق اگلے چند برسوں میں اخراجات تو تیزی سے بڑھیں گے مگر ٹیکسوں کا حقیقی اثر بعد میں سامنے آئے گا، جس سے 2029 کے انتخابات سے قبل سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ریوز نے کہا کہ نئی تجارتی ڈیلز اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے اثرات ابھی OBR کی پیشگوئیوں میں شامل نہیں ہیں۔ میں معیشت کو تیز کرنے اور محنت کش طبقے کو فائدہ دینے کے لیے مزید اقدامات کروں گی۔
دوسری جانب 30 سالہ برطانوی بانڈز کی ییلڈ بجٹ کے بعد مستحکم رہی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ریوز کے فیصلوں نے مالیاتی منڈیوں کو کچھ حد تک مطمئن کیا ہے۔






