محمد رضوان جمعے کو دوپہر تقریباً 3 بجے این سی سی آئی اے کے لاہور دفتر پہنچے۔ انہیں ادارے کی جانب سے جاری دوسرے نوٹس کے تحت طلب کیا گیا تھا، جس میں ضبط کیے گئے موبائل فون کے تجزیے اور فرانزک جانچ کے لیے تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے کی چار رکنی تفتیشی ٹیم نے محمد رضوان سے مختلف سوالات کیے۔ تفتیشی ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت تین انسپکٹرز شامل تھے۔ رضوان سے جاری انکوائری اور ان کے موبائل فون سے متعلق امور پر سوالات کیے گئے۔
محمد رضوان تقریباً ساڑھے 3 گھنٹے این سی سی آئی اے کے دفتر میں موجود رہے، جس کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ دفتر سے باہر آنے کے بعد میڈیا نمائندوں نے ان سے تفتیش اور پوچھے گئے سوالات سے متعلق سوالات کیے۔
محمد رضوان نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ وہ اس حوالے سے خاموش ہیں اور انہیں جانے دیا جائے، انہیں بھوک لگی ہوئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ این سی سی آئی اے میں ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں ’’بہت پیار ملا‘‘۔
محمد رضوان کی این سی سی آئی اے میں تازہ پیشی اس انکوائری کا حصہ ہے جو ان کے موبائل فون سے متعلق جاری ہے۔ این سی سی آئی اے نے گزشتہ ماہ انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران محمد رضوان کا موبائل فون اپنی تحویل میں لیا تھا۔ تازہ نوٹس میں ادارے نے موبائل فون کے فرانزک معائنے اور تجزیے کے لیے رضوان کی موجودگی اور تعاون طلب کیا تھا۔
محمد رضوان نے اس سے قبل این سی سی آئی اے کو خطوط بھی لکھے تھے جن میں انہوں نے اپنے خلاف جاری انکوائری کی نوعیت اور دائرہ کار کی تحریری وضاحت طلب کی تھی۔
رضوان نے یہ بھی سوال اٹھایا تھا کہ آیا موجودہ انکوائری اب بھی آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق الزامات پر ہے یا اس کا دائرہ کار تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے اپنے موبائل فون کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری دوسرے نوٹس کے مطابق محمد رضوان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت طلب کیا گیا تھا۔ نوٹس میں موبائل فون کے فرانزک تجزیے اور تفتیش میں تعاون کا کہا گیا تھا۔
محمد رضوان کے خلاف معاملہ پاکستان کے دورہ انگلینڈ کے دوران شروع ہوا، جب این سی سی آئی اے نے ان کا موبائل فون تحویل میں لیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق انکوائری میں آن لائن بیٹنگ، جوئے اور ڈریسنگ روم کی معلومات کے مبینہ افشا سمیت مختلف پہلوؤں کا ذکر سامنے آیا ہے، تاہم این سی سی آئی اے کی جانب سے رضوان کے خلاف کسی جرم کا حتمی تعین نہیں کیا گیا۔
پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی تھی، جس میں پاکستان کو 3-0 سے شکست ہوئی۔ سیریز کے دوران محمد رضوان سمیت بعض کھلاڑیوں کو تیسرے ٹیسٹ سے قبل اسکواڈ سے ریلیز کیا گیا تھا۔
بعد ازاں محمد رضوان اور امام الحق این سی سی آئی اے کے سامنے بھی پیش ہوئے تھے، جہاں ان سے مبینہ طور پر ڈریسنگ روم کی معلومات کے افشا سمیت مختلف امور پر پوچھ گچھ کی گئی۔ رضوان نے بعد میں ادارے کو تحریری جواب بھی بھجوایا اور انکوائری کی وجوہات اور موبائل فون کی تحویل سے متعلق وضاحت طلب کی تھی۔
محمد رضوان نے اس معاملے پر لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ عدالت نے تحقیقات ختم کرنے کے بجائے رضوان کو متعلقہ ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی جبکہ این سی سی آئی اے کو انہیں ہراساں یا غیر ضروری طور پر پریشان کرنے سے روک دیا تھا۔
تازہ پیشی سے ایک روز قبل محمد رضوان نے تصدیق کی تھی کہ وہ 2 اکتوبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوں گے۔ انہوں نے ادارے سے انکوائری کے دائرہ کار اور اپنے خلاف الزامات کی تحریری وضاحت بھی طلب کی تھی، تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ قانونی انکوائری میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔







