وزارتِ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 10 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 390 روپے 66 پیسے سے بڑھ کر 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399 روپے 34 پیسے سے بڑھ کر 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 3 اکتوبر سے 5 اکتوبر تک تین روز کے لیے کیا گیا ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ طریقہ کار کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سفارش کی۔

اعداد و شمار کے مطابق 17 جولائی سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 21 مرتبہ کمی جبکہ 31 مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 20 مرتبہ کمی اور 32 مرتبہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز یکم اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تین روز کمی کے بعد 3 روپے 26 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 390 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مسلسل چوتھے روز ایک روپے ایک پیسے کی کمی کی گئی تھی، جس کے بعد اس کی قیمت 399 روپے 34 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی۔
اس سے قبل 30 ستمبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔ پیٹرول 14 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل ایک روپے 89 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 387 روپے 40 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 400 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔
29 ستمبر کو بھی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 49 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، جس کے بعد پیٹرول 387 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 2 روپے 73 پیسے کمی کے بعد 402 روپے 24 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔
28 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 27 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 56 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، جس کے بعد پیٹرول 389 روپے 3 پیسے اور ڈیزل 404 روپے 97 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا۔
25 ستمبر کو حکومت نے 26 سے 28 ستمبر تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 2 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 391 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد قیمت 408 روپے 53 پیسے ہوگئی تھی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا تعلق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال سے بھی ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی سے تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، جن کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر مرتب ہوئے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ہفتہ اور اتوار کو قیمتوں میں تبدیلی نہیں کی جاتی اور سابقہ قیمتیں برقرار رہتی ہیں۔
دوسری جانب مسلسل مہنگے ایندھن کے اثرات کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے فی لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا۔







