امریکی محکمہ انصاف کے مطابق وفاقی گرینڈ جیوری نے پاکستانی شہری پر ایک غیر مجاز ویب سائٹ چلانے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی پوسٹیج لیبلز فروخت کیے گئے۔

امریکی حکام کے مطابق ملزم مبینہ طور پر LabelsBank.com نامی ویب سائٹ چلا رہا تھا، جسے امریکی پوسٹل سروس کی مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ ویب سائٹ پر صارفین کو انتہائی کم قیمت پر پوسٹیج لیبل فراہم کیے جاتے تھے، جنہیں بعد ازاں پارسلز اور دیگر اشیا کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ویب سائٹ پر پوسٹیج لیبل عموماً تقریباً 2 ڈالر فی لیبل کی مقررہ قیمت پر فروخت کیے جاتے تھے۔ اس قیمت کا انحصار پارسل کے وزن، سائز یا اس مقام پر نہیں ہوتا تھا جہاں اسے پہنچایا جانا تھا، جب کہ قانونی USPS نرخ ان عوامل کی بنیاد پر مختلف ہوتے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے باعث ویب سائٹ استعمال کرنے والے افراد امریکی پوسٹل سروس کے جائز نرخوں کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر اپنے پارسلز بھیج سکتے تھے۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ 5 ہزار 200 سے زائد افراد نے مذکورہ ویب سائٹ کے ذریعے 51 لاکھ سے زائد جعلی شپنگ لیبلز خریدے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس مبینہ اسکیم کے نتیجے میں امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچا۔

امریکی حکام کے مطابق تحقیقات کے بعد ویب سائٹ کو بند کردیا گیا، جب کہ اس کا ڈومین بھی ضبط کرلیا گیا ہے۔ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس اور محکمہ انصاف نے مشترکہ کارروائی کے ذریعے مبینہ اسکیم کا سراغ لگایا۔

سدرن ڈسٹرکٹ آف فلوریڈا کے امریکی اٹارنی جیسن اے ریڈنگ کوینونز کے مطابق یہ مبینہ اسکیم بظاہر سادہ طریقے سے چلائی جارہی تھی، تاہم اس کا دائرہ وسیع تھا اور اس کے ذریعے بڑی تعداد میں جعلی پوسٹیج لیبل فروخت کیے گئے۔

فردِ جرم کے مطابق پاکستانی شہری پر امریکہ کو دھوکا دینے اور جعلی پوسٹیج اسٹامپس بنانے اور فروخت کرنے کی سازش کی ایک دفعہ، جعلی پوسٹیج اسٹامپ لیبلز بنانے اور فروخت کرنے کی پانچ دفعات جبکہ وائر فراڈ کی چار دفعات عائد کی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جعلی پوسٹیج سے متعلق سازش کے الزام میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، جبکہ وائر فراڈ کی ہر دفعہ پر زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا مقرر ہے۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ فردِ جرم میں عائد الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے۔ امریکی قانون کے تحت ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک عدالت میں اس کا جرم ثابت نہ ہوجائے۔

حکام کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس مبینہ جعلی پوسٹیج لیبلز کی فروخت اور اس سے ہونے والے مالی نقصان کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔