برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نیوز کے مطابق ایک سال تک یہ دعویٰ کرنے کے بعد کہ برطانیہ معاشی بحران کے بدترین دور سے نکل چکا ہے، ریوز بدھ کے روز ایک اور ٹیکس-بوجھ والے بجٹ کی نقاب کشائی کریں گی۔ یہ قدم ووٹرز، سرمایہ کاروں اور یہاں تک کہ لیبر پارٹی کے اندر موجود بے چینی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
ریوز نے اپنی ساکھ اس تصور پر قائم کی تھی کہ وہ سیاسی اتھل پتھل کے بعد ایک مستحکم ہاتھ رکھتی ہیں۔ مگر دفتر میں ان کے ابتدائی 18 ماہ کسی بھی طور ہموار ثابت نہیں ہوئے۔ ٹیکس پالیسی پر غیر واضح بیانات اور اچانک پالیسی تبدیلیوں نے مارکیٹوں میں بے چینی پیدا کی، جسے ایک لیبر قانون ساز نے غیریقینی کی دھند سے تعبیر کیا ہے۔
رائے عامہ کے سروے بھی ان کے لیے زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ عوام کا محدود حصہ ہی سمجھتا ہے کہ ریوز اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر ادا کر رہی ہیں۔
ناقدین طنزاً انہیں ’’اکاؤنٹس کی ریچل‘‘ کہتے ہیں، مگر ریوز اس بات کو قبول کرتی ہیں کہ سیاست میں تعریف و تحسین کم ہی نصیب ہوتی ہے۔ ان کے مطابق نیوکلیئر انرجی اور نیشنل ہیلتھ سروس میں سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آہستہ مگر مستقل تبدیلی لا رہی ہیں۔
تاہم وہ سیاسی حکمت عملی کی ماہر، جو ماضی میں پیچیدہ صورتحال میں راستہ نکالنے کی صلاحیت کے لیے جانی جاتی تھیں، اب ایسی کوشش میں رہتی ہیں جسے ماہرین ’’آخری لمحے کی حکمتِ عملی‘‘ یا ممکنہ ناکامی کو قابل قبول کامیابی میں بدلنے کا فن قرار دیتے ہیں۔
ریوز کے لیے اس کا مطلب ہے مارکیٹ کا اعتماد واپس حاصل کرنا اور پارٹی کے اندرونی ناقدین کو یقین دلانا کہ وہ 2024 کی تاریخی لیبر فتح کو ضائع نہیں کر رہیں۔
The question at the heart of this is, is it fair if you have more children to get more benefit?
— BBC Breakfast (@BBCBreakfast) November 25, 2025
On #BBCBreakfast Emma Vardy looked at whether Chancellor Rachel Reeves will lift the two child benefit cap in the Budgethttps://t.co/tjvQe6s73O pic.twitter.com/k2S60utx7Q
جولائی میں پارلیمنٹ میں ایک جذباتی لمحے کے دوران ان کا آنسو بہانا میڈیا میں موضوع بنا، جس نے ان کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم دیں۔ مخالفین نے اسے کمزوری قرار دیا، جب کہ حمایتیوں نے اسے ان کی انسانی وابستگی کا اظہار سمجھا۔
ریوز کے مطابق ہر کارکن کے کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب معاملات قابو سے نکل جائیں، فرق صرف یہ تھا کہ ان کا لمحہ براہ راست ٹی وی پر نشر ہوا۔
مالیاتی منڈیاں اب بھی 2022 کے منی بجٹ کے بحران کی یاد سے خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ریوز نے انکم ٹیکس پر مؤقف میں تبدیلی کے اشارے دیے تو بازاروں نے تیزی سے ردعمل دیا۔ بانڈز کی پیداوار بڑھی، سرمایہ کار محتاط ہوگئے اور پالیسی کے تسلسل پر سوال اٹھنے لگے۔ ایک تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ ’’گلٹ مارکیٹ سرپرائز برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں۔
اس تمام ہلچل کے باوجود، بیرون ملک ریوز کو مثبت پذیرائی ملی۔ امریکہ کے حالیہ دورے میں مالیاتی رہنماؤں نے ان کی وضاحت، سنجیدگی اور احتیاط کو سراہا۔ تاہم برطانیہ میں کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت فاصلہ اختیار کرتی جا رہی ہے اور بعض حلقے ریوز پر ’بات زیادہ، عمل کم‘ کی پالیسی اپنانے کا الزام لگا رہے ہیں۔
فی الحال، ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوامی نکتہ چینی نہیں بلکہ مارکیٹ کا غیر مستحکم اعتماد ہے۔ قرضے کی لاگت میں اچانک اضافہ نہ صرف حکومت کو جھٹکا دے سکتا ہے بلکہ پارٹی کے اندرونی ناقدین کو بھی متحرک کر سکتا ہے۔
وزیر اعظم کیئر اسٹارمر بارہا کہتے رہے ہیں کہ وہ اور ریوز ایک ٹیم کی طرح ’’قدم سے قدم ملا کر‘‘ کام کرتے ہیں اور ان کی سیاسی کامیابیوں اور ناکامیوں کی ڈور بھی ایک دوسرے سے بندھی ہوئی ہے۔





