برطانوی نشریاتی ماہر اور فوٹوگرافر ہیلینا چارڈ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ولیم اور کیتھ مڈلٹن شاہی خاندان کے مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ بادشاہ چارلس سوم کی حمایت کے ساتھ ساتھ خاندان کی ساکھ کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

چارڈ کے مطابق شہزادہ ولیم موجودہ وقت میں شہزادہ اینڈریو کے معاملے سے خوش نہیں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ شہزادہ ولیم اپنے والد سے کہیں زیادہ سخت مؤقف رکھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ مزید تاخیر شاہی خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ اینڈریو نے 17 اکتوبر کو ڈیوک آف یارک کا خطاب اور دیگر اعزازات واپس کر دیے تھے۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ اُن پر لگائے گئے الزامات شاہی خاندان کے کام سے توجہ ہٹاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے قبل شاہی خاندان کے کئی سینئر اراکین، بشمول شہزادہ ولیم، سے مشاورت کی گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہزادہ ولیم نے اپنے والد کی مکمل حمایت کے ساتھ اینڈریو کو شاہی کردار سے علیحدہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق شہزادہ ولیم اور کیتھ مڈلٹن کے “زیرو ٹالرینس” منصوبے نے شاہی خاندان کی اندرونی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ شاہی ماہر ہیلری فورڈوچ کے مطابق، "یہ جوڑا پسِ پردہ رہ کر اسکینڈلز کے خاتمے اور سخت نظم و ضبط کے نفاذ پر کام کر رہا ہے تاکہ بادشاہت کے مستقبل کو محفوظ رکھا جا سکے۔

خیال رہے کہ شہزادہ اینڈریو پر جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات اور ورجینیا جفری کے الزامات کے بعد شدید تنقید ہوئی تھی۔ 2022 میں اس مقدمے کا تصفیہ غیر علانیہ رقم پر ہوا، تاہم اینڈریو کی شاہی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔

ادھر حالیہ سروے کے مطابق شہزادہ ولیم اور شہزادی کیتھ اب بھی عوام میں سب سے مقبول شاہی جوڑی قرار پائے ہیں۔ ایپسوس یوکے کے پول میں شہزادہ ولیم کی مقبولیت 69 فیصد جبکہ شہزادی کیتھ کی 66 فیصد رہی، جو اُن کی مضبوط عوامی حمایت اور مستقبل کی بادشاہت میں بڑھتے اثرورسوخ کی علامت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ولیم اور کیتھ مڈلٹن کی قیادت میں شاہی خاندان اب ایک “نئی، شفاف اور سخت نظم و ضبط پر مبنی دور” میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی رکن کو اسکینڈل یا تنازع کی صورت میں رعایت نہیں دی جائے گی۔