ٹیک سائٹ نائن ٹو فائیو  کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے واقعات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں متعدد صارفین نے بتایا کہ چوروں نے اسٹریٹ کراائم کے دوران ان کے ہاتھ سے فون چھینا، اس کا برانڈ چیک کیا اور اگر وہ آئی فون ہو تو فوراً لے کر بھاگ گئے،لیکن جب پتا چلا کہ فون اینڈرائیڈ ہے تو اسے واپس پھینک دیا یا وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔

متاثرہ افراد کے مطابق بعض مواقع پر چوروں نے اینڈرائیڈ فون دیکھ کر اتنی بے رخی کا مظاہرہ کیا کہ بھاگنے کی بھی زحمت نہیں کی، گویا ان کے نزدیک اسے چرانے کی کوئی وقعت ہی نہیں۔

سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی بنیادی وجہ معاشی ہے۔ چوری شدہ آئی فونز کی غیر قانونی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں ری سیل ویلیو زیادہ ہوتی ہے، جب کہ انہیں ان لاک کرنے کے غیر قانونی طریقے بھی نسبتاً آسان ہیں۔

اس کے برعکس بیشتر اینڈرائیڈ فونز مڈ رینج یعنی کم قیمت کیٹیگری میں آتے ہیں اور ان کی ری سیل ویلیو بھی انتہائی محدود ہوتی ہے، جس کے باعث چور انہیں قابلِ توجہ نہیں سمجھتے۔