برطانوی اخبار کے مطابق یہ شخص اتوار کے روز شمالی ویلز کے شہر لینڈڈنو میں ایک تقریب کے دوران جنگی یادگار پر سلامی دیتے ہوئے نظر آیا۔ اس نے ریئر ایڈمرل کی وردی پہن رکھی تھی جس پر 12 تمغے لگے ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق اس شخص کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم وہ ماضی میں بھی مختلف یادگاری تقریبات میں شرکت کرتا رہا ہے۔

رائل نیوی نے اس اقدام کو ’سابق فوجیوں کی توہین‘ اور ممکنہ طور پر 1894 کے یونیفارمز ایکٹ کے تحت جرم قرار دیا ہے۔ یہ ایکٹ اُن افراد کو فوجی وردی پہننے سے روکتا ہے جنہوں نے کبھی مسلح افواج میں خدمات انجام نہیں دیں۔

ماہرین نے اس شخص کی وردی پر لگے تمغوں پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کی وردی پر ایسے تمغے بھی لگے ہیں جو کبھی بھی ایک ساتھ نہیں لگائے جاتے۔

اخبار کے مطابق اس شخص کی وردی بھی معمول سے ہٹ کر تھی۔ اس نے کٹ کالر والی سفید قمیض پہنی تھی جو رائل نیوی کے ضوابط کے خلاف ہے، جب کہ اس کے کوٹ کی آستینیں بھی بڑی تھیں۔

رائل نیوی کے ترجمان نے مزید کہا کہ نیول افسر کی نقالی کرنا سروس سے وابستہ تمام افراد کے لیے توہین آمیز ہے اور اسے مجرمانہ فعل تصور کیا جا سکتا ہے۔