خبر رساں نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق نئے مجوزہ منصوبے کے تحت مستقل رہائش یعنی انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین حاصل کرنے کے لیے مهاجرین کو انگریزی زبان میں اعلیٰ معیار حاصل کرنا ہوگا، مجرمانہ ریکارڈ سے پاک ہونا ہوگا اور مقامی کمیونٹی میں رضاکارانہ طور پر حصہ لینا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق فی الحال برطانیہ میں مهاجرین پانچ سال بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں لیکن لیبر پارٹی کی نئی پالیسی کے تحت یہ مدت بڑھا کر 10 سال کی جائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے برطانیہ میں آنے والوں کو معاشرے میں بہتر انداز میں ضم ہونے کی ترغیب ملے گی۔

یہ پالیسی اصلاحات یو کے کی جماعت ریفارم یو کے سے واضح فرق کو ظاہر کرنے کے لیے بھی پیش کی جا رہی ہے۔ ریفارم یو کے کا مؤقف ہے کہ مستقل رہائش کا درجہ ہی ختم کر دینا چاہیے اور ہر غیر ملکی کو ہر پانچ سال بعد ویزا کے لیے دوبارہ درخواست دینا چاہیے۔

لیبر پارٹی کے مطابق یہ پالیسی ان ہزاروں افراد کو نقصان پہنچائے گی جو کئی دہائیوں سے برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں اور کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایک انٹرویو میں ریفارم یو کے کی اس پالیسی کو نسل پرستانہ اور غیر اخلاقی قرار دیا۔ اس کے جواب میں ریفارم یو کے کے رہنما نائیجل فراج نے روزنامہ ڈیلی ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیبر پارٹی سرحدی کنٹرول پر یقین نہیں رکھتی اور وزیر اعظم کے بیانات ایک  مایوس کن حملہ ہیں۔

ریفارم یو کے کے پالیسی سربراہ ضیاء یوسف نے بی بی سی بریک فاسٹ میں کہا کہ عوام کو امیگریشن سے متعلق  جائز خدشات ہیں اور حکومت کو غیر ملکیوں کے لیے فلاحی سہولیات کی ادائیگی نہیں کرنی چاہیے۔

Image
شبانہ محمود اپنی تقریر میں حب الوطنی اور مہاجرین کے سماجی کردار کے درمیان توازن کی بات کریں گی۔ (تصویر: بلومبرگ)

لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ کچھ غیر ملکی شہری، اگر وہ نمایاں مہارت یا خدمات انجام دیں، تو انہیں جلد مستقل رہائش دی جا سکتی ہے۔ نئے نظام کے تحت قومی انشورنس میں شراکت، فلاحی مراعات نہ لینا اور کمیونٹی میں شرکت کرنا اہم عوامل ہوں گے۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود اپنی تقریر میں حب الوطنی اور مہاجرین کے سماجی کردار کے درمیان توازن کی بات کریں گی۔ وہ یہ بھی کہیں گی کہ وہ ہمیشہ پارٹی کارکنوں کو خوش نہیں کر سکیں گی مگر یہ اقدامات ضروری ہیں تاکہ عوام لیبر پارٹی سے مایوس نہ ہوں اور متبادل کے طور پر ریفارم یو کے کی طرف رخ نہ کریں۔

مزید یہ کہ اپنی تقریر میں وہ اپنے والدین کی برطانیہ آمد اور کمیونٹی میں ان کے کردار کا بھی ذکر کریں گی۔ وزیر داخلہ یہ بھی بتائیں گی کہ وہ بچپن میں اپنے خاندانی دکان پر کام کرتی تھیں جہاں ان کے ساتھ چوری کا واقعہ پیش آیا تھا اور یہی تجربہ انہیں ملک میں چوری کے خلاف کارروائی کے لیے متحرک کرتا ہے۔

وہ ایک نئے ونٹر آف ایکشن منصوبے کا آغاز کریں گی جس کے تحت ملک بھر کی پولیس فورسز مقامی کاروباروں کے ساتھ مل کر دکانوں میں چوری کی وارداتوں کے خلاف کارروائیاں کریں گی۔

واضع رہے کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسیاں منصفانہ امیگریشن کے تصور کو فروغ دینے کے لیے ہیں اور برطانیہ کو ایک کھلا، فراخدل، اور برداشت رکھنے والا ملک بنانے کے مقصد کا حصہ ہیں۔