حافظ نعیم الرحمان نے لاہور کے وحدت روڈ پر جلسے کے بارے میں کہا کہ حکومت کی جانب سے جلسے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، تاہم کارکن ان رکاوٹوں کے باوجود جلسہ گاہ پہنچے۔ جماعت اسلامی نے لانگ مارچ ختم نہیں کیا بلکہ حکومت کی درخواست پر اسے عارضی طور پر مؤخر کیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم کی وطن واپسی پر پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات اور مطالبات کے حل کی امید ہے، اگر حکومت نے لیوی ختم کرنے کے مطالبے پر پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی اپنا لانگ مارچ دوبارہ شروع کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا معاملہ جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم کا مرکزی نکتہ ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے میں پٹرولیم لیوی عائد کرنے کی کوئی ایسی شرط موجود نہیں جس کے تحت اسے لازماً برقرار رکھا جائے، حکومت کو عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات میں کمی کرنی چاہیے۔

انہوں نے حکمران طبقے کے اخراجات میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اور حکومتی سطح پر غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں اور سادگی اختیار کی جائے، عوام سے مزید مالی بوجھ وصول کرنے کے بجائے حکومتی اخراجات اور مراعات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ ان کی جماعت عوامی مسائل کے حوالے سے احتجاج کر رہی ہے اور اس کا مقصد پٹرولیم لیوی سمیت معاشی مشکلات پر حکومت کی توجہ مبذول کرانا ہے، جماعت اسلامی ملک کے مختلف شہروں میں جلسے اور عوامی رابطہ مہم جاری رکھے گی، جن میں چارسدہ، صوابی، ساہیوال، سرگودھا، لاڑکانہ، کرک اور کراچی شامل ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دستخطی مہم بھی شروع کی جائے گی۔ جماعت اسلامی اس مہم کے ذریعے عوام کی حمایت حاصل کرنے اور اپنے مطالبے کو وسیع سطح پر اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق اس مہم کا ہدف بڑی تعداد میں شہریوں کے دستخط حاصل کرنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عوامی مسائل کو اپنی سیاست کا مرکزی موضوع بنانا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو بھی جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ عوام کو درپیش معاشی مسائل پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے سود کے خاتمے کے حوالے سے بھی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملات اور محکموں کے لیے وفاقی سطح پر وسائل مختص کرنے کے طریقہ کار پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سامنے آنے والی باتوں کی جماعت اسلامی مخالفت کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کو آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے تحریک انصاف کے احتجاج کے حق کی بھی حمایت کی اور کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے، اختلافِ رائے اور سیاسی احتجاج کے معاملات میں قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا معاملہ جماعت اسلامی نے آئینی عدالت میں اٹھایا ہے، عام شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کارکنوں اور عوام کو کسی ایسی صورتحال میں نہیں دھکیلنا چاہتی جس سے امن و امان متاثر ہو، احتجاج کا مقصد عوامی مسائل اجاگر کرنا ہے اور کارکنوں کی حفاظت بھی جماعت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے حالیہ تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کشمیر کے معاملے پر بھی تنقید کی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، یاسین ملک سمیت زیرحراست کشمیری رہنماؤں اور فلسطین میں جاری صورتحال کو زیادہ نمایاں طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے تھا۔

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ لاہور کا جلسہ اس بات کا اظہار ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر ان کی جماعت کی احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی، وزیراعظم کی جانب سے درخواست پر لانگ مارچ کو چند روز کے لیے مؤخر کیا گیا ہے، تاہم مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ عوامی مسائل کے حوالے سے جماعت اسلامی کی احتجاجی سرگرمیوں میں شریک ہوں، آئندہ جلسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا شیڈول بھی جاری کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی مہم کا مرکزی موضوع ہے، حکومت کو عوام پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے لیوی کے خاتمے سمیت دیگر اقدامات کرنے چاہئیں، جبکہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف اور دیگر اقدامات کا مؤقف سامنے آتا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق اگر وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد مذاکرات میں مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو جماعت اسلامی اپنے آئندہ احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، جس میں لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا آپشن بھی شامل ہے۔