عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت ان فیصلوں کے ذریعے اپنی امیگریشن پالیسی کو سخت بنا رہی ہے، خصوصاً اُن افراد کے لیے جو فرانس سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ایسی سیاسی جماعتوں کی بڑھتی پذیرائی کو روکنا ہے جو امیگریشن مخالف بیانیہ رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈنمارک کے سخت ماڈل سے رہنمائی لے رہی ہے، جہاں پناہ گزینوں کو عارضی اسٹیٹس ملتا ہے، ان کی مدد مشروط ہوتی ہے اور مستقل رہائش یا شہریت کے لیے راستہ طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بھی اسی سمت جانا ہوگا کیونکہ یورپ بھر میں پناہ گزین مخالف جذبات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ نئی اصلاحات کے بعد بعض پناہ گزینوں کو دی جانے والی قانونی معاونت جیسے رہائش اور ہفتہ وار الاؤنس ختم کر دی جائے گی۔ یہ پابندی ان افراد پر لاگو ہوگی جو محنت کر سکتے ہیں مگر کام نہیں کرتے، یا جنہوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ اُن لوگوں پر خرچ کیا جائے گا جو برطانوی معاشرے کا حصہ بننے اور اس میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر داخلہ شبانہ محمود کے مطابق، برطانیہ کا موجودہ سسٹم دیگر یورپی ممالک سے کہیں زیادہ نرم ہے، جہاں پانچ سال بعد خودکار طور پر مستقل رہائش مل جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی اصلاحات کے بعد پناہ گزین کا اسٹیٹس ہر ڈھائی سال بعد پرکھا جائے گا، جب کہ ILR تک رسائی اب 20 سالہ طویل مرحلے کے بعد ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پناہ گزینوں کے اسٹیٹس کا جائزہ ان کے وطن کے حالات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا اور اگر ان کا ملک محفوظ قرار پایا تو ان کے تحفظ کا درجہ ختم کیا جا سکتا ہے۔
اسی دوران حکومت یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل ایٹ جو خاندان کی یکجائی کے حق سے متعلق ہے، اُس کی تشریح میں بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔
شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ اس آرٹیکل کو ایسے افراد غلط استعمال کر رہے ہیں جو قانونی طور پر ملک میں رہنے کے اہل نہیں مگر پھر بھی ملک بدری سے بچنے کے لیے قانونی سہارے لیتے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی فیصلوں کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک سو سے زائد برطانوی فلاحی اداروں نے وزیر داخلہ کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کو موردِ الزام ٹھہرانے والی پالیسیوں سے معاشرے میں نفرت اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق پناہ گزین خطرات سے بھاگتے وقت مختلف ممالک کی پالیسیوں کا موازنہ نہیں کرتے بلکہ جہاں انہیں زبان، رشتہ دار یا سماجی روابط کی صورت میں سہولت ہو، وہاں جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک کے 12 ماہ میں برطانیہ میں پناہ کی درخواستیں 17 فیصد بڑھ کر 109,343 تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ کئی علاقوں میں پناہ گزینوں کو سرکاری خرچ پر ہوٹلوں میں رکھنے کے خلاف احتجاج بھی سامنے آیا تھا۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا مقصد ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کے سخت معیارات کا مقابلہ کرنا اور بعض شعبوں میں ان سے آگے بڑھنا ہے۔
واضح رہے کہ ڈنمارک میں اس وقت پناہ گزینوں کو دو سال کے لیے عارضی رہائشی اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں، جن کی مدت ختم ہونے پر انہیں دوبارہ درخواست دینی پڑتی ہے، اور وطن محفوظ ہونے کی صورت میں انہیں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
🚨 NEW: Shabana Mahmood has announced those arriving illegally will now face a 20 year wait - not 5 - before they can apply for permanent settlement
— Politics UK (@PolitlcsUK) November 15, 2025
It will be the longest settlement route in Europe, far surpassing Denmark’s current high of 8 years
اِن پالیسیوں کے خلاف ڈنمارک میں بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں سراپا احتجاج رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایسی پالیسیاں پناہ گزینوں کی زندگی کو غیر یقینی ماحول میں دھکیل دیتی ہیں۔
برطانیہ کی ریفیوجی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پناہ گزین اپنے ممالک سے جان بچا کر بھاگتے وقت یورپی قوانین اور لائنوں کا تقابل نہیں کرتے بلکہ وہ ایسے ملک جاتے ہیں جہاں انہیں کسی حد تک زبان آتی ہو، رشتہ دار موجود ہوں یا جہاں انہیں نئی زندگی شروع کرنے کا موقع مل سکے۔





