لیورپول میں لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے، اسٹارمر نے واضح کیا کہ ریفارم یو کے اگر اقتدار میں آتی ہے تو وہ امیگریشن کے معاملے پر نسل پرستانہ پالیسیاں لا سکتی ہے، جو برطانیہ کے لیے خطرناک ثابت ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ لیبر کے پاس ہماری زندگی کی لڑائی ہے اور یہ وقت اپنی قیادت پر تنقید یا نظریں نیچی رکھنے کا نہیں بلکہ مل کر کام کرنے کا ہے۔
امیگریشن کے معاملے پر اسٹارمر نے واضح مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنا ایک الگ بات ہے، لیکن ان افراد کو نشانہ بنانا جو قانونی طور پر برطانیہ میں موجود ہیں، سراسر نسل پرستی ہے۔ انہوں نے اسے غیر اخلاقی قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
واضح رہے کہ ریفارم یو کے جس کی قیادت نائیجل فاریج کر رہے ہیں، حالیہ عوامی جائزوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے، جب کہ اسٹارمر کو پارٹی کے اندر سے مخالفت اور قیادت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ان کے نائب اور امریکا میں سفیر کو استعفیٰ دینا پڑا، جس سے لیبر میں قیادت پر سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم جیسے سینئر شخصیات بھی قیادت کی دوڑ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
لیبر پارٹی کو مالیاتی پالیسیوں پر بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ وزیر خزانہ ریچل ریوز پارٹی کے ان وعدوں کو پورا کرنے کے دباؤ میں ہیں جو معیارِ زندگی میں بہتری اور عوامی خدمات کی بہتری سے متعلق کیے گئے تھے۔
یونائیٹ یونین کی سربراہ شیرون گراہم نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ بجٹ میں کوئی واضح تبدیلی نہ آئی تو لیبر کو عوامی حمایت کھونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پارٹی کے اپنے مالیاتی اصولوں کے باعث حکومتی اخراجات بڑھانے میں رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا نے ’غزہ جنگ کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام‘ کے لیے 21 نکاتی منصوبہ پیش کر دیا
پولنگ فورم اپسوس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اسٹارمر کی عوامی مقبولیت انتہائی کم سطح پر ہے۔ صرف 13 فیصد ووٹرز ان سے مطمئن ہیں جب کہ 79 فیصد غیر مطمئن، جو کہ 1977 کے بعد کسی بھی برطانوی وزیر اعظم کے لیے سب سے خراب ریٹنگ ہے۔
اس کے باوجود، اسٹارمر نے کہا کہ وہ تنقید سے گھبرانے والے نہیں اور ان کا فیصلہ معیارِ زندگی، عوامی خدمات اور عوام کے سیکیورٹی احساس کی بنیاد پر کیا جائے گا۔






