برطانوی جریدے دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں پناہ گزینوں کا نظام قابو سے باہر ہو چکا ہے اور ملک کو واضح طور پر تقسیم کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر تارکین وطن کے آبائی ممالک محفوظ ہو جائیں تو انہیں لازمی واپس جانا ہوگا، چاہے وہ برطانیہ میں جائیداد کے مالک ہی کیوں نہ ہوں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں پناہ گزینوں کو مستقل رہائش کے بجائے عارضی حیثیت دی جائے گی اور ہر دو سے ڈھائی سال بعد نئی درخواست لازمی ہوگی۔ غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے والوں کو مستقل رہائش کے لیے 20 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔
دی گارڈین کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن کمیونٹیز پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور عوامی خدمات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
برطانوی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ غیر قانونی ہجرت نے ملک کے اندر تقسیم پیدا کر دی ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن قوانین کو توڑتے ہیں، نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں اور سزا سے بچ نکلتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ رہائش اور مالی معاونت کو اختیاری بنایا جا رہا ہے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے سہولیات محدود کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی، اب مستقل رہائش اختیار کرنے کے لیے 20 سال کا انتظار کرنا ہوگا
برطانوی وزیر داخلہ نے اصلاحات کو "جدید دور کی سب سے بڑی اور جامع پالیسی تبدیلی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام میں کنٹرول اور انصاف واپس لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
رپورٹ میں پاکستانی مؤقف سے مماثلت کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی افغان مہاجرین دہشت گردی اور اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ ملکی سلامتی کے پیشِ نظر افغان شہریوں کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔






