رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نجی طیارے کے ذریعے ابوظبی پہنچے اور دن کا بیشتر حصہ متحدہ عرب امارات میں گزارنے کے بعد اسی روز واپس اسرائیل روانہ ہوگئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے دفتر نے دورے کو پہلے سے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا تھا، جبکہ اماراتی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور حالیہ جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی سیکیورٹی صورتحال خصوصی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 2020 میں ابراہیمی معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے اور اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں رابطے برقرار رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے حالیہ دورے کا ایک اہم پس منظر خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال بھی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو ایرانی حملوں کے خدشات کا سامنا رہا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے امارات میں آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام اور اس سے متعلق اہلکار فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
دورے کے حوالے سے ایک اور معاملہ بھی اسرائیلی میڈیا میں زیر بحث ہے۔ حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید نے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے سے قبل نیتن یاہو کو ممکنہ بڑے حملے کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔ تاہم نیتن یاہو اس دعوے کی تردید کرچکے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی ان رپورٹس پر باضابطہ طور پر کوئی تصدیق فراہم نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت دوبارہ توجہ کا مرکز بنا ہے جب نیتن یاہو کا اماراتی صدر سے تازہ رابطہ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کے دورے کا وقت اور پس منظر اس معاملے کو مزید اہم بنا رہا ہے، تاہم ملاقات میں زیر بحث آنے والے مخصوص نکات کے بارے میں دونوں حکومتوں کی جانب سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ رواں سال نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کے درمیان رابطے سے متعلق دوسری اہم پیش رفت بھی ہے۔ مئی میں نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی، تاہم اس وقت اماراتی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ابراہیمی معاہدوں کے تحت کھلے اور اعلانیہ ہیں۔
حالیہ دورے کے بارے میں تاہم ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے رائٹرز کو ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ اس کے باوجود دورے کے ایجنڈے، ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو اور دونوں ممالک کی جانب سے آئندہ کے ممکنہ اقدامات سے متعلق باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفارتی معاملات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ اس تناظر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے کو خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے، تاہم ملاقات کے نتائج کے بارے میں فی الحال حتمی تفصیلات دستیاب نہیں۔







