تفصیلات کے مطابق پانڈوں کی منتقلی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا، تاہم ان کی روانگی کا اعلان جمعرات کو چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ واشنگٹن کے دوران کیا گیا۔
سیاہ اور سفید رنگ کے یہ ممالیہ جانور دنیا بھر میں بے حد مقبول ہیں اور چین غیر ملکی روابط کو فروغ دینے کے لیے ’پانڈا ڈپلومیسی‘ پروگرام کے تحت انہیں دوسرے ممالک کو بھیجتا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق ’پنگ پنگ‘ اور ’فو شوانگ‘ اتوار کی رات تقریباً 3 بجے چینگدو شوانگلیو بین الاقوامی ایئرپورٹ سے ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے امریکا کے لیے روانہ ہوئے۔
چینی سرکاری میڈیا ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق 15 گھنٹے کی پرواز کے دوران پانڈوں کو خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ابلی ہوئی مکئی کے بن، بانس کی نرم شاخیں اور گاجریں بھی ساتھ لے جائی گئی ہیں۔
پانڈوں کو لے جانے والا طیارہ فلائٹ ریڈار 24 پر سب سے زیادہ ٹریک کیے جانے والے طیاروں میں شامل تھا، جب یہ الاسکا کے قریب پہنچا، یعنی پرواز کے تقریباً نصف راستے پر تھا۔
دونوں پانڈے امریکا کی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کے ایک چڑیا گھر جا رہے ہیں، جہاں وہ آئندہ 10 سال گزاریں گے۔ جائنٹ پانڈا بریڈنگ کے چینگدو ریسرچ بیس نے روانگی سے قبل دونوں پانڈوں کے لیے الوداعی تقریب بھی منعقد کی۔
گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فریق کی جانب سے تجربہ کار کیپرز بھی پرواز میں دونوں پانڈوں کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ ان کی آمد کی تیاری کے لیے زو اٹلانٹا نے پانڈوں کو رکھنے کی جگہ کی تزئین و آرائش کی ہے اور جانوروں کی نگہداشت کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔
چڑیا گھر نے بانس کی مستحکم اور طویل مدتی فراہمی بھی یقینی بنائی ہے۔ یہ بانس اٹلانٹا میں مقامی طور پر اگایا جاتا ہے، جہاں کی آب و ہوا چینگدو سے بہت ملتی جلتی ہے۔
زو اٹلانٹا میں 1999 سے شروع ہو کر 25 سال تک چین سے عارضی طور پر حاصل کیے گئے پانڈے موجود رہے، تاہم 2024 کے بعد سے وہاں کوئی پانڈا موجود نہیں ہے۔
جن دو پانڈوں کی آمد متوقع ہے وہ دونوں 2020 میں پیدا ہوئے تھے۔ ’پنگ پنگ‘ نامی نر پانڈا اب چھ سال کا ہے، جب کہ ’فو شوانگ‘ نامی مادہ پانڈا اگلے ماہ چھ سال کی ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ چڑیا گھروں یعنی انسانی نگہداشت میں رہنے والے پانڈے عموماً تقریباً 30 سال تک زندہ رہتے ہیں۔
یہ روئیں دار جانور کئی عشروں سے بیجنگ کی سفارتی خیرسگالی کے سفیروں کے طور پر دنیا بھر میں بھیجے جاتے رہے ہیں۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے 1972 میں کمیونسٹ چین کا تاریخی دورہ کیا تھا، جس کے بعد چین نے واشنگٹن کو پانڈوں کا ایک جوڑا تحفے میں دیا تھا۔
اس سال کے اوائل میں بیجنگ نے جاپان سے اپنے دو پانڈے واپس بلا لیے تھے۔ یہ اقدام ایک سفارتی تنازع کے نتیجے میں کیا گیا، جب جاپانی وزیراعظم نے عندیہ دیا تھا کہ تائیوان پر کسی بھی حملے کی صورت میں ٹوکیو عسکری مداخلت کر سکتا ہے۔







