سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات مکمل کرنے اور رپورٹ مرتب کرنے کے لیے اپنی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست سندھ حکومت کو بھجوائی تھی، تاہم مقررہ مدت ختم ہونے تک اس درخواست پر منظوری کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن 24 اگست کو جاری کیا گیا تھا، جبکہ کمیشن نے 27 اگست سے باقاعدہ کارروائی شروع کی تھی۔ کمیشن کو ابتدائی طور پر ایک ماہ کے اندر اپنی کارروائی مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور اس کی موجودہ مدت 27 ستمبر کو ختم ہوگئی۔

کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران کیس کی تفتیش، شواہد کے تحفظ، فرانزک مواد، میڈیکل بورڈ اور پولیس تفتیش کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ حالیہ کارروائیوں میں کمیشن کی جانب سے کیس سے متعلق ریکارڈ اور تفتیشی عمل میں سامنے آنے والے مختلف معاملات پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق کمیشن نے مزید کارروائی کے لیے 28 ستمبر کو کیس کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری اور سی پی ایل سی کے نمائندے کاشف کو طلب کر رکھا تھا۔ تاہم کمیشن کی مدت ختم ہونے کے بعد آئندہ کارروائی کا انحصار سندھ حکومت کی جانب سے توسیع کی منظوری پر ہوگا۔

کمیشن کی جانب سے سندھ حکومت کو 15 اکتوبر تک توسیع دینے کی درخواست کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ بعض گواہوں کے بیانات، متعلقہ افسران سے پوچھ گچھ اور رپورٹ کی تیاری سمیت تحقیقات کے کچھ مراحل مکمل ہونا باقی ہیں۔ کمیشن نے اپنی کارروائی جاری رکھنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔

دوسری جانب میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے کیس کی تفتیش کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ خاندان کی جانب سے پولیس حکام اور تفتیشی عمل سے متعلق بعض معاملات پر وضاحتیں بھی طلب کی گئی ہیں، جبکہ کمیشن نے بھی تحقیقات کے دوران دستیاب ریکارڈ اور مختلف حکام کے بیانات کا جائزہ لیا ہے۔

کمیشن کی سابقہ کارروائیوں میں شواہد سے نمٹنے کے طریقہ کار اور میڈیکل بورڈ سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آچکے ہیں۔ کمیشن نے بعض مواقع پر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی اور کیس سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

اب جوڈیشل کمیشن کی مزید کارروائی کا معاملہ سندھ حکومت کے فیصلے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت توسیع کی منظوری دیتی ہے تو کمیشن 15 اکتوبر تک اپنی تحقیقات جاری رکھ سکے گا اور باقی کارروائی مکمل کرکے رپورٹ مرتب کرسکے گا۔ فی الحال توسیع کی درخواست پر حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔