جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ فکری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے علما، مشائخ، جامعات، مدارس، مذہبی اداروں اور حکومتوں کو ہنگامی بنیادوں پر مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، انتہاپسند نظریات نوجوانوں کو متاثر کرکے انہیں تشدد اور دہشت گردی کی طرف لے جاتے ہیں، اس لیے صرف سیکیورٹی کارروائیوں کے بجائے فکری اور علمی سطح پر بھی مؤثر حکمت عملی ضروری ہے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلام اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے والی قوتوں کا بلاخوف و مصلحت فکری مقابلہ کرنا ہوگام، ایسی گمراہ کن سوچ نے مسلم دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، اس لیے انتہاپسند گروہوں کے نظریات، مقاصد اور طریقہ کار کو علمی و دینی دلائل کے ساتھ بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے اور ان کے بقول تقریباً ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ طاہر اشرفی نے زور دیا کہ ان تمام عناصر کی حوصلہ شکنی ضروری ہے جو مذہب، اسلام یا جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ فکری انحراف کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے تعلیم، علم، مکالمے، دینی رہنمائی اور نوجوان نسل کی فکری تربیت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے علما اور مذہبی اداروں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات، امن، برداشت اور انسانی احترام کا پیغام دیں۔
طاہر اشرفی نے یمن اور سعودی عرب کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے حوثی گروپ کے طرزِعمل پر بھی تنقید کی، جس طرح فلسطینیوں کا قتل ناقابلِ قبول ہے، اسی طرح یمن میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانا بھی قابلِ مذمت ہے، اسلام یا فلسطین کے نام پر کسی بھی قسم کی کارروائی کو بے گناہ انسانوں کے قتل یا مقدس مقامات کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت، سلامتی اور امن پوری امتِ مسلمہ کے لیے انتہائی اہم ہیں، حرمین شریفین یا ارضِ حرمین کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی کوشش کو مسلمان قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب اور یمن کی حکومتوں کو اپنے عوام، سرزمین اور امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے، پاکستان ارضِ حرمین شریفین کے امن، استحکام اور دفاع کے معاملے میں مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور فکری انحراف، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی کوششوں کو سراہتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی کو کسی مسلکی یا سیاسی تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اس سے قبل بھی پاکستان علما کونسل کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت و سلامتی کے حوالے سے واضح مؤقف سامنے آچکا ہے اور علما و مشائخ نے حرمین شریفین کے تحفظ کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
عالمی کانفرنس سے امام کعبہ، مختلف اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے علما، مفتیانِ کرام اور ممتاز اسلامی شخصیات نے بھی خطاب کیا، جہاں مذہبی انتہاپسندی، دہشت گردی، فکری انحراف اور مسلم دنیا کو درپیش دیگر چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔







