مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے 26 ستمبر کو ریاض اور خمیس مشیط کی سمت داغے گئے حوثیوں کے ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔
شاہی دفتر کے بیان کے مطابق شاہ محمد ششم نے سعودی فرمانروا اور ولی عہد کو بھیجے گئے دو الگ الگ پیغامات میں ریاض کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
بیان میں شاہ محمد ششم کے حوالے سے کہا گیا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام، دیگر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک کی طرح، مراکش کی اپنی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب پر کوئی بھی حملہ مراکش پر حملہ ہے، جب کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی حمایت کے مترادف ہے۔
شاہ محمد ششم کے مطابق خلیجی ممالک کے اہم مفادات کا دفاع ہمارے مشترکہ اسٹریٹیجک مفادات کا دفاع ہے۔
مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بادشاہ نے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ان خطرات کا بھی حوالہ دیا جنہیں انہوں نے دہشت گرد اور علیحدگی پسند ملیشیاؤں اور ان کی حمایت کرنے والی علاقائی طاقتوں سے منسوب کیا۔
یہ اشارہ ایران اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سمجھا جا رہا ہے، جن میں یمن کی حوثی تحریک بھی شامل ہے۔
شاہ محمد ششم نے کہا کہ یہ عناصر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی معیشت اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے اہم سمندری راستوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
بادشاہ محمد ششم نے حوثیوں اور ان کے بقول ان کی مالی اور عسکری حمایت کرنے والوں کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔







