برطانوی صحافی پیئرز مورگن کو دیے گئے انٹرویو میں قطری وزیراعظم سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور نیتن یاہو کے کردار سے متعلق سوال کیا گیا۔ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ کیا گیا وہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور جو شخص بھی ان کارروائیوں کا ذمہ دار ہے وہ جنگی مجرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اس لیے ان کارروائیوں کے لیے پیش کیے جانے والے کسی بھی جواز کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جاسکتا۔ قطری وزیراعظم نے سوال کے جواب میں واضح طور پر نیتن یاہو کو بھی اس ذمہ داری میں شامل قرار دیا۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایک مرتبہ پھر قطر کے خلاف اسرائیلی حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کے حوالے سے بھی بات کی، قطر پر تنقید اور الزامات کا مقصد دوحہ کے ثالثی کردار کو کمزور کرنا ہے، جبکہ قطر غزہ کے معاملے پر سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ بندی اور امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
قطری وزیراعظم نے حماس کے عسکری آپریشنز کی مالی معاونت سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کیا، قطر کا حماس سے رابطہ اور ثالثی کا کردار امریکی درخواست اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر نے حماس اور اسرائیل کے درمیان مختلف مواقع پر مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششوں میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
شیخ محمد نے کہا کہ ثالث کا کردار ادا کرنا آسان نہیں، تاہم قطر کے نزدیک بند دروازوں کے پیچھے سفارت کاری کے ذریعے بات چیت آگے بڑھانا مسائل کے حل کا مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ امریکی حکومت اور ایرانی حکام کو بھی مذاکرات اور تنازع کے حل کے لیے اپنی تجاویز اور مشورے فراہم کررہا ہے۔
قطری وزیراعظم نے غزہ کے علاوہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے بھی تین اہم معاملات کی نشاندہی کی، ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ایک قابلِ قبول سمجھوتا، آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی قانون کے مطابق آزادانہ بحری نقل و حرکت اور خطے کے سیکیورٹی انتظامات میں اصلاحات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان علاقائی سیکیورٹی کے معاملات پر براہِ راست بات چیت بھی ضروری ہے، تاکہ باہمی عدم مداخلت، عدم جارحیت اور اقتصادی و تجارتی تعاون کے لیے مشترکہ اصول وضع کیے جاسکیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے گزشتہ سال دوحہ میں اسرائیلی حملے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قطر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ جنگ بندی کے لیے ثالثی اور سفارتی کوششوں میں مصروف تھا۔ ان کے مطابق ثالث پر حملہ ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔
قطری وزیراعظم نے واضح کیا کہ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود قطر سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کے بقول جنگوں کا حل مزید فوجی کارروائیوں کے بجائے سیاسی مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔







