سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ متاثرہ پاکستانی شہریوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائی گئی اور احتجاج بھی کیا گیا، جبکہ انہوں نے ذاتی طور پر حکومت اور متعلقہ حکومتی اداروں سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا۔

امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ حکومت پاکستان بروقت اور مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں تین پاکستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس واقعے نے متاثرہ خاندانوں کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے اور ان کے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ معاملہ صرف تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے ملک کے لیے نقصان ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ پاکستانی شہریوں کی حفاظت اور بحفاظت واپسی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے۔

امیر جماعت اسلامی کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی جانب سے کراچی میں احتجاجی کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ اس کیمپ کو بھی ختم کردیا گیا، ایسے موقع پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت تھی۔

حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر آواز اٹھائی گئی۔ ان کے مطابق انہوں نے خود بھی حکومت اور حکومتی اداروں سے بارہا رابطہ کرکے معاملے پر مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ پاکستانی شہری کس صورتحال میں صومالی فورسز کے آپریشن کے دوران قزاقوں کی فائرنگ کی زد میں آئے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ واقعے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ کو نہ صرف مالی اور قانونی معاونت فراہم کی جائے بلکہ سانحے کے ذمہ دار عوامل کا بھی تعین کیا جائے۔ ان کے مطابق حکومت کو متاثرہ خاندانوں کو اعتماد میں لے کر آئندہ کے لیے ایسے واقعات کی روک تھام کے اقدامات بھی کرنا چاہئیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے تمام حقائق واضح کیے جانے چاہئیں تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ واقعے سے قبل اور اس کے بعد متعلقہ اداروں نے کیا اقدامات کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ واقعے کی ذمہ داری طے کرنا اور حقائق قوم کے سامنے لانا ضروری ہے۔

انہوں نے جاں بحق پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ تین قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے اور حکومت کو اس سانحے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر متاثرہ خاندانوں کو جواب دینا چاہیے۔