عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے مطابق یکم اکتوبر عراق کی تاریخ میں ایک نئی صبح ہوگی اور ملک اپنی سرزمین پر قومی خودمختاری کی تکمیل کے ساتھ کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی سے آزاد ہوگا۔ اس موقع کو حکومت نے ’یومِ آزادی‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے چار سرکاری تعطیلات بھی رکھی گئی ہیں۔
امریکا عراق سے کب گیا اور دوبارہ کیوں آیا؟
عراق میں امریکی فوجی موجودگی کی موجودہ تاریخ 2003 کے امریکی حملے سے شروع ہوتی ہے، جب امریکی افواج نے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ کئی سالہ جنگ اور شورش کے بعد امریکی فوج 2011 میں عراق سے واپس چلی گئی، لیکن صرف تین سال بعد داعش کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث دوبارہ عراق میں داخل ہوئی۔
2014 میں داعش نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ امریکا نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف آپریشن اِن ہیرنٹ ریزولو شروع کیا، جس کا مقصد عراقی اور شامی فورسز کی مدد سے داعش کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔
اب امریکی فوج کا انخلا اس 12 سالہ مشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عراق میں دو دہائیوں سے زائد امریکی فوجی مداخلت کے اختتام کی بھی علامت ہے۔
امریکا اور عراق نے 2024 میں فوجی مشن کے اختتام اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک معمول کے دوطرفہ تعلقات کی جانب منتقلی پر اتفاق کیا تھا۔
کیا عراق اب مکمل طور پر غیر ملکی فوجیوں سے آزاد ہوجائے گا؟
امریکی فوج کے انخلا کا مطلب یہ نہیں کہ عراق میں موجود ہر غیر ملکی فوجی فوراً واپس چلا جائے گا۔ ترکی کے فوجی اہلکار اب بھی شمالی عراق میں موجود ہیں، اگرچہ انقرہ نے شمالی عراق میں ایک فوجی اڈہ بتدریج بغداد کے حوالے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری طرف عراق کے لیے سب سے بڑا سوال اب بیرونی فوجیوں سے زیادہ ملک کے اندر موجود مسلح گروہوں کا ہے۔ بغداد نے مسلح گروہوں کو ریاستی کنٹرول میں لانے اور انہیں بتدریج غیر مسلح کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کی نئی حتمی مدت 30 جون 2027 مقرر کی گئی ہے۔
اس منصوبے کے تحت مسلح گروہوں کو ایک مخصوص مدت تک حملوں سے گریز کرنا ہوگا، جس کے بعد ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہونا ہے۔ تاہم عراق کے طاقتور ایران نواز مسلح گروہوں میں سے بعض نے غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے یا اس عمل کے لیے مختلف شرائط پیش کی ہیں۔
ایران نواز گروہوں کا کیا ہوگا؟
عراق میں کتائب حزب اللہ، حرکۃ النجباء اور کتائب سید الشہداء جیسے طاقتور مسلح گروہوں کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور مکمل طور پر عراقی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
یہ صورتحال عراق کے لیے ایک پیچیدہ سکیورٹی چیلنج ہے، کیونکہ ملکی سیاست اور مسلح گروہوں کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے موجود ہیں۔
چیتھم ہاؤس کے ریناد منصور کے مطابق عراق میں کئی سیاسی تحریکیں مسلح تنظیموں سے منسلک ہیں، اس لیے سکیورٹی نظام میں فوری اور بنیادی تبدیلی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

ایران اور اس کے اتحادی مسلح گروہ امریکی انخلا کو ایک کامیابی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایران کی پارلیمانی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے نائب سربراہ امیر حیات مقدم نے بھی امریکی فوج کے انخلا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے جانے کے بعد عراق اور خطے میں مستقل سکیورٹی قائم ہوگی۔
اسلامک ریزسٹنس اِن عراق سے وابستہ ایک کمانڈر ابو مجتبیٰ الیاسری نے امریکی انخلا کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا اور کہا کہ عراق کی خودمختاری غیر ملکی افواج کے ذریعے نہیں بلکہ مزاحمت اور عوام کی مرضی سے محفوظ ہوسکتی ہے۔
کیا امریکی انخلا سے سکیورٹی خلا پیدا ہوگا؟
یہی وہ سوال ہے جس پر عراق کے اندر بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ عراقی حلقے امریکی فوج کے انخلا کو مکمل قومی خودمختاری کی جانب قدم قرار دیتے ہیں، جب کہ سکیورٹی ماہرین کے ایک حصے کو خدشہ ہے کہ امریکی فوج کے جانے سے ایران نواز مسلح گروہوں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔
ایک اور خدشہ داعش کے دوبارہ منظم ہونے کا بھی ہے۔ امریکی قیادت میں اتحادی افواج نے گزشتہ برسوں میں داعش کے خلاف عراقی فورسز کو تربیت، انٹیلی جنس اور فضائی معاونت فراہم کی۔ اب بغداد کو اپنی سکیورٹی ضروریات زیادہ تر اپنی فورسز کے ذریعے پوری کرنا ہوں گی۔
فلوجہ کے سنی قبائلی رہنما عبدالرحمٰن الزبائی نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ تمام عراقی مکمل خودمختاری چاہتے ہیں، تاہم ان کے مطابق اس وقت اتحادی افواج کا انخلا ایک ایسے خلا کا باعث بن سکتا ہے جس سے عراقی حلقے خوفزدہ ہیں۔

کرد علاقوں اور اقلیتوں کے لیے کیا بدلے گا؟
امریکی انخلا کا ایک اہم پہلو شمالی عراق کا نیم خودمختار کردستان خطہ بھی ہے، جہاں اربیل میں امریکی فضائی دفاعی نظام اور فوجی اہلکار بھی موجود رہے ہیں۔ کردستان کے وزیراعظم مسرور بارزانی بغداد سے ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
علاقے میں عیسائیوں، یزیدیوں اور کرد برادری سمیت دیگر اقلیتوں کے تحفظ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے بعد ان طبقات کو سکیورٹی کے حوالے سے مزید خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
حالیہ عرصے میں اربیل میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے امریکی مفادات سے منسلک اہداف پر حملوں میں اضافے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جب کہ ایران کی جانب سے عراق میں ایرانی کرد مخالف گروہوں سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
امریکا اور عراق کے تعلقات اب کس طرف جائیں گے؟
امریکی فوج کے انخلا کا مطلب امریکا اور عراق کے تعلقات کا خاتمہ نہیں۔ چیتھم ہاؤس کے ریناد منصور کے مطابق دونوں ملکوں کے تعلقات اب سکیورٹی کے بجائے اقتصادی اور دیگر شعبوں کی جانب منتقل ہوسکتے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جولائی میں عراقی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ خودمختار، مستحکم اور مضبوط عراق دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعاون کے لیے بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ معمول کے دفاعی تعلقات کے لیے عراق میں ایسا محفوظ ماحول ضروری ہے جہاں دہشت گرد گروہوں کا دباؤ موجود نہ ہو۔

یوں 30 ستمبر 2026 کو امریکی فوجی انخلا صرف ایک فوجی مشن کے خاتمے کا نام نہیں۔ یہ عراق کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں بغداد کو اپنی خودمختاری کے ساتھ ساتھ ایران نواز مسلح گروہوں، داعش کے ممکنہ خطرے، کرد علاقوں کی سلامتی، اقلیتوں کے تحفظ اور امریکا و ایران کے درمیان توازن جیسے مشکل سوالات کا بھی سامنا ہوگا۔ امریکی فوج چلی جائے گی، مگر عراق کی سکیورٹی اور سیاست میں اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اب بغداد کے لیے اصل امتحان ہوگی۔







