ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس دوپہر دو بجے کے بعد کسی بھی وقت ہوسکتا ہے، جس میں وفاقی وزرا اور دیگر اہم حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور حالیہ سیاسی کشیدگی سمیت مختلف امور پر مشاورت متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 233 اور 234 کے تحت ممکنہ اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کے ناکام ہونے کی صورت میں صدر کو مخصوص آئینی طریقہ کار کے تحت اقدامات کا اختیار دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 233 ایمرجنسی کے دوران بعض بنیادی حقوق سے متعلق ریاستی اختیارات سے متعلق ہے۔
تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں فی الحال نہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی رابطے بھی جاری ہیں۔
وفاقی حکومت کے بعض رہنماؤں کی جانب سے خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق صوبائی حکومت کو سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے اور دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون کرنا چاہیے۔ یہ مؤقف وفاقی حکام کی جانب سے بیان کیا گیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق وفاق کی جانب سے ممکنہ اقدامات یا سیاسی دباؤ کے باوجود پی ٹی آئی کا مجوزہ لانگ مارچ اپنے طے شدہ سیاسی مؤقف کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی سیاسی کشیدگی کے دوران پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کی جانب سے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھ کر لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست بھی سامنے آئی ہے۔ اس درخواست میں صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور سیاسی حالات کے تناظر میں احتجاج کے وقت اور حکمت عملی پر نظرثانی کی تجویز دی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی حالیہ دنوں میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور مجوزہ لانگ مارچ پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں، موجودہ حالات میں صوبہ لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہوسکتا اور سیاسی جماعتوں کو امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ گورنر نے یہ بھی کہا تھا کہ غیر معمولی حالات میں آئینی طریقہ کار کے تحت گورنر راج زیر غور آسکتا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے درمیان ملاقات میں بھی صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان اور وفاق و صوبے کے درمیان رابطہ کاری کے معاملات زیر بحث آچکے ہیں۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق کسی صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں آرٹیکل 234 کے تحت صدرِ مملکت مخصوص شرائط اور آئینی طریقہ کار کے مطابق اقدامات کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں صدر کو صوبائی گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر اطمینان حاصل ہونا ضروری ہے، جبکہ اعلان کو پارلیمانی منظوری کے آئینی تقاضوں سے بھی گزرنا ہوتا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں متوقع اجلاس کے بعد خیبر پختونخوا کی صورتحال سے متعلق وفاقی حکومت کے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آنے کا امکان ہے، تاہم دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق فی الحال گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔







