لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں بہترین طرز حکمرانی نہ ہونے کے باعث سیاست، معیشت اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ناقص حکمرانی کے براہِ راست اثرات عام شہری کی زندگی پر پڑتے ہیں اور عوام کو مہنگائی، انتظامی مسائل اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیاقت بلوچ نے موجودہ ملکی حالات کی ذمہ داری سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی موجودہ صورتحال بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیوروکریسی اور سرکاری محکموں میں عوامی مسائل کے حل کے بجائے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کرپشن کے خلاف مؤثر احتساب کا نظام بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا۔

جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اپنے معاملات بہتر انداز میں چلانے کا اختیار دیا گیا، تاہم ان کے بقول صوبائی حکومتیں عوامی مسائل کے حل اور مؤثر حکمرانی میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی سطح پر سیاسی تعصبات اور نفرتوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے ایک قومی ایجنڈا رکھتی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو قومی ترجیحات پر بات چیت اور قومی ڈائیلاگ کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے بقول بدنیتی پر مبنی آئینی ترامیم کو ختم کیا جائے اور عدل و انصاف کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ انصاف 25 کروڑ عوام کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے اور حکمرانوں کے غیر ضروری اخراجات کو روکنے کی ضرورت ہے، ملک میں غیرجانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے اقدامات کیے جائیں اور نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی کیا جائے تاکہ انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر نے کہا کہ ملک کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں، تاہم اس کے باوجود اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے کی صورتحال تشویشناک ہے، موجودہ ہائبرڈ نظام بھی ان کے مطابق اپنے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہوچکا ہے۔

لیاقت بلوچ نے ملک میں بلدیاتی نظام کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھر، بالخصوص صوبوں میں مؤثر مقامی حکومتیں موجود نہیں ہیں، پنجاب میں طویل عرصے سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، جبکہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر بار بار تاخیر ہوتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی مقامی اداروں کو انتخابات کے ذریعے فعال کرنے کی ضرورت ہے

انہوں نے بتایا کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی ان سے رابطہ کیا ہے اور جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جماعت اسلامی مختلف سیاسی قوتوں سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ قومی مسائل پر مشترکہ مؤقف اور اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے حوالے سے لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ تحریک ملک بھر میں جاری ہے، کراچی سے روہڑی اور پھر ملتان تک ٹرین مارچ کیا جاچکا ہے جبکہ مختلف شہروں میں احتجاجی کیمپس، ریلیاں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں جماعت اسلامی کی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ اوکاڑہ، چارسدہ اور بونیر میں بھی بڑے عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں احتجاجی تحریک کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے اور حکومت سے عوام کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی نے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور وزیراعظم نے وطن واپسی پر اجلاس بلانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم وطن واپس آچکے ہیں، اس لیے اب حکومت کو بلا تاخیر اجلاس بلا کر عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔ لیاقت بلوچ کے مطابق حکومت کی جانب سے تاخیر سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور جماعت اسلامی حکومت کی جانب سے کسی غیرمعینہ مدت تک مذاکرات یا کمیٹی کے انتظار میں نہیں رہ سکتی۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت نے مزید تاخیر کی تو امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن ملتان سے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے، ملتان سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری مکمل ہے جبکہ مختلف مقامات پر سپر لانگ مارچ کے استقبال کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔

پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی احتجاج کے آئینی حق کو تسلیم کرتی ہے اور پی ٹی آئی کے احتجاج کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی اپنی احتجاجی تحریک کا مقصد عوام کو ریلیف دلوانا اور حکومت پر عوامی مسائل کے حل کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام حکمرانوں کے رویے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور حکومت کو ٹال مٹول کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی سیاسی و احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔

لیاقت بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور سیاسی و معاشی بحران کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات پر بروقت پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی ملتان سے لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کرے گی۔