غزہ کی صورتحال کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان میں بھی کشیدگی برقرار ہے، جب کہ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران شدت آئی ہے۔ خطے کے مختلف محاذ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایران، اسرائیل، حزب اللہ اور حوثیوں سے متعلق تنازعات نے مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے تصادم کے خدشات کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان فروری سے جاری جنگ بھی اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے دوبارہ سفارتی رابطے ہوئے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو سات روز میں دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجویز مسترد کردی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران آبنائے میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی، جب کہ حالیہ حملوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث تیل کی ترسیل اور عالمی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد موجود، بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ جرمن حکومت اسرائیلی اقدامات پر زیادہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے: سابق جرمن نائب چانسلر
نیوز ڈیسک
29 ستمبر، 2026مشرقِ وسطیٰ میں غزہ سے لے کر ایران اور آبنائے ہرمز تک صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا، جب کہ فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ گزشتہ روز بھی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم دو فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ جرمنی کے سابق نائب چانسلر رابرٹ ہابیک نے کہا ہے کہ غزہ میں صورتحال ایک ایسے مرحلے تک پہنچ چکی ہے جو بہت سی جگہوں پر بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ اسرائیل میں بھی بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ جرمن حکومت اسرائیلی حکومت کے اقدامات پر جرائم اور تنقید کے حوالے سے زیادہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔
تازہ اپڈیٹس
غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد موجود ہیں، سابق جرمن نائب چانسلر
جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی سے گفتگو کرتے ہوئے جرمنی کے سابق نائب چانسلر رابرٹ ہابیک نے اسرائیل پر غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی یہود مخالف سوچ کی نشاندہی کرکے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل یا اسرائیلی حکومت پر تنقید کرنے سے روک دیا جائے۔
سابق جرمن نائب چانسلر نے اسرائیل کی غزہ میں جنگی کارروائیوں کو جرمنی میں بائیں بازو کے حلقوں میں یہود مخالف جذبات میں اضافے سے بھی جوڑا اور کہا کہ اسرائیلی اقدامات اور غزہ میں جنگی جرائم کے باعث یہ معاملہ مزید نمایاں ہوا ہے۔
ہابیک نے اسرائیل کو ایک ’پرامن ملک‘ قرار دینے کے تاثر کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک مضبوط فوجی طاقت رکھنے والی ریاست ہے جو بیرونی دنیا کے حوالے سے جارحانہ رویہ بھی رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں صورتحال ایک ایسے مرحلے تک پہنچ چکی ہے جو بہت سی جگہوں پر بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ اسرائیل میں بھی بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ جرمن حکومت اسرائیلی حکومت کے اقدامات پر جرائم اور تنقید کے حوالے سے زیادہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔
واضح رہے کہ رابرٹ ہابیک 2021 سے 2025 تک جرمنی کے نائب چانسلر اور وزیرِ اقتصادی امور رہے۔ وہ گرین پارٹی سے وابستہ ہیں۔
دوسری جانب غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، جب کہ تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوچکا ہے۔






