یمن کے سب سے اوپر والے کونے میں صعدہ نام کا پہاڑی علاقہ ہے اور یہ سعودی سرحد کے بالکل ساتھ ہے۔ یہاں کے لوگ قبائلی ہیں۔ صدیوں تک اسی علاقے کے اپنے حکمران ہوا کرتے تھے۔ پھر 1962 میں تختہ الٹا اور ان کا اقتدار ختم ہو گیا۔ یہ لوگ اپنے ہی ملک میں پیچھے رہ گئے۔ صنعاء میں بیٹھی حکومت نے یہاں سڑک بنائی، نہ اسپتال، نہ اسکول۔
ادھر پڑوس میں سعودی عرب کے مبلغ آ کر اپنے مدرسے کھولنے لگے۔ ان لوگوں کو لگا کہ ہماری پہچان بھی جا رہی ہے اور ہمیں پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔ اسی ناراضی میں نوّے کی دہائی میں ایک تحریک اٹھی۔ اس کے لیڈر کا نام حسین الحوثی تھا اور اسی کے خاندان سے یہ لوگ حوثی کہلائے۔
2003 میں امریکا نے عراق پر حملہ کیا اور اس تحریک کا نعرہ بن گیا 'امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد'۔ یمن کی اس وقت کی حکومت نے اس کو بغاوت سمجھا۔ 2004 میں فوج نے حسین الحوثی کو مار دیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ قصہ ختم۔ لیکن قصہ ختم نہیں ہوا۔ اگلے چھ سال میں حکومت نے ان سے چھ جنگیں لڑیں، اور ہر جنگ کے بعد حوثی پہلے سے زیادہ مضبوط نکلے۔
2011 میں عرب دنیا میں احتجاج کی لہر اٹھی جیسے عرب سپرنگ بھی کہا جاتا ہے اور یمن کا چالیس سال پرانا صدر علی عبداللہ صالح گھر چلا گیا۔ لیکن اس کے بعد ملک سنبھلا نہیں۔ فوج بٹی ہوئی تھی، پیسے نہیں تھے، اور نئی حکومت کمزور تھی۔
حوثیوں نے اس خلا کا فائدہ اٹھایا۔ وہ پہاڑ سے اترے اور ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعاء میں داخل ہو گئے۔
یہاں ایک مزے کی بات یہ ہوئی کہ جس صالح سے وہ چھ جنگیں لڑ چکے تھے وہی سابق صدر اب ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا کیونکہ اسے اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس چاہیے تھی۔ اس کی فوج کے وفادار حوثیوں کے کام آ گئے۔ یعنی حوثیوں نے یہ ملک اکیلے نہیں لیا۔ ان کے ساتھ اس کی پرانی فوج بھی تھی۔
سعودی عرب کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کی جنوبی سرحد پر ایک ایسا مسلح گروہ بیٹھ گیا ہے جو ایران کے قریب ہے اور ایران سعودی عرب کا سب سے بڑا حریف ہے۔
مارچ 2015 میں سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کو لے کر یمن پر بمباری شروع کر دی۔ اندازہ یہ تھا کہ چند ہفتے کا کام ہے۔ وہ چند ہفتے آٹھ سال بن گئے۔ دنیا کی ایک بڑی فضائی طاقت جس کے پاس جدید ہتھیار اور بے پناہ پیسہ تھا ایک پہاڑی گروہ کو نہ ہٹا سکی۔
اس دوران یمن کی حالت خراب ہوتی گئی۔ بمباری میں عام لوگ بھی مرے۔
شادیوں پر،،، بازاروں میں،،،، بچوں کی بسوں پر بھی حملے ہوئے۔ اس کے ساتھ سعودی اتحاد نے یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سخت پابندیاں لگائیں۔ یمن اپنا زیادہ تر کھانا باہر سے منگواتا ہے تو اس وجہ سے بھوک، مہنگائی اور دواؤں کی کمی ہو گئی
دوسری طرف انہوں نے بھی بدلہ لیا۔ سستے ڈرون اور میزائل سعودی شہروں تک پہنچنے لگے اور ایک بار سعودی تیل کی سب سے بڑی تنصیبات کو ایسا نشانہ بنایا کہ ایک لمحے کے لیے دنیا کی تیل کی سپلائی ہل گئی۔ یہاں ایک دلچسپ بات ہے کہ ایک سستے ڈرون کو گرانے کے لیے سعودیوں کو کئی گنا مہنگا میزائل چلانا پڑتا ہے۔ یعنی ہر حملے میں سعودی عرب کا خرچ زیادہ ہوتا ہے اور حوثیوں کا کم۔
2022 میں جنگ بندی ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد چین کی مدد سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بھی ٹھیک ہوئے۔ حوثی وفد ریاض تک گیا اور ایسا لگا کہ یہ جنگ ختم ہونے والی ہے۔
لیکن 2023 میں غزہ کی جنگ شروع ہوئی۔ حوثیوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے اسرائیل سے جڑے جہازوں پر حملے شروع کر دیے۔ اس سے وہ ایک دم پورے عرب میں مشہور ہو گئے۔ اب وہ صرف یمن کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ وہ عالمی خبروں میں آنے لگے۔ امن مذاکرات پیچھے چلے گئے۔
فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایران نے خلیج کے تیل کا سب سے بڑا راستہ آبنائے ہرمز روک دیا۔ اب سعودی عرب کے پاس اپنا تیل بھیجنے کا سب سے بڑا متبادل بحیرۂ احمر تھا۔ اور بحیرۂ احمر کے دروازے، باب المندب پر تھے ۔۔۔۔ حوثی۔
یہ وہ لمحہ ہے جس نے پورا کھیل بدل دیا۔ سعودی عرب ایک طرف سے ہرمز پر پھنسا ہوا ہے، دوسری طرف سے باب المندب پر۔ جولائی میں حوثیوں نے اعلان کر دیا کہ سعودی جہاز ہمارا نشانہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے بارہ سال سے ہمارا محاصرہ کیا ہوا ہے تو اب اس کا راستہ بھی بند ہو گا۔
ستمبر میں انہوں نے وہ کیا جو برسوں میں نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے بحیرۂ احمر کی بندرگاہ موخا پر قبضہ کیا، باب المندب کے قریب جزیرے لے لیے، اور پھر سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر حملہ کیا۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں تہتر لوگ زخمی ہوئے اور تیل کی تنصیبات میں آگ لگی۔
اب اصل مسلہ یہ ہے کہ حوثی کہتے ہیں کہ ہم محاصرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، اور ہمیں تنخواہیں، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے چاہییں جو کہ صعودی عرب نے بند کر رکھے ہیں۔
اور دوسری طرف سعودی عرب اور یمن کی حکومت کہتی ہے کہ یہ ایران کا ایجنڈا ہے اور حوثی ایران کے کہنے پر ملک کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔
اور اب پاکستان کے لیے یہ صرف دور کی خبر نہیں بلکہ سعودی عرب کا ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ حال ہی میں دفاعی معاہدہ ہوا ہے اور یہ جنگ اس معاہدے کا پہلا امتحان ہے۔
ساتھ ہی اگر باب المندب بند ہوا تو تیل مہنگا ہو گا اور اس کی قیمت ہم بھی دیں گے۔ اس وقت سب سے زیادہ نقصان اس عام یمنی کا ہو رہا ہے جو اس لڑائی میں کہیں بھی نہیں ہے۔ اس لڑائی میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ گھر چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں یا خیموں میں بیٹھے ہیں۔







