اسرائیلی رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو بدھ کی شام ہوئی، جس میں پرواز کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر کی سیکیورٹی سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے منسلک رپورٹس کے مطابق پروازوں کے سیکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات پر غور کیا گیا۔
یہ رابطہ فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ہوا، جو دبئی سے تل ابیب جارہی تھی۔ پرواز میں سوار 174 افراد کے حوالے سے دستیاب رپورٹس کے مطابق طیارے کو دورانِ پرواز ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں طیارے نے بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واقعے کے بعد اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ طیارے کے ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور مبینہ طور پر طیارے کو حادثے کا شکار بنانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق مسافروں اور عملے کے بعض ارکان نے مداخلت کرکے حملہ آور پائلٹ کو قابو کیا، جس کے بعد طیارے کو محفوظ طریقے سے سعودی عرب میں اتارا گیا۔
رپورٹس کے مطابق طیارے میں موجود دیگر آف ڈیوٹی پائلٹس نے بھی صورتحال سنبھالنے میں کردار ادا کیا اور طیارے کو تبوک ایئرپورٹ پر اتارنے میں مدد دی۔ سعودی حکام کے مطابق دونوں پائلٹس کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق واقعے میں مبینہ طور پر ملوث کو پائلٹ کو سعودی حکام نے حراست میں لے لیا ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔ تاہم واقعے کے محرکات اور اس کی حتمی نوعیت کے بارے میں ابھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں۔ الجزیرہ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ طیارہ ہائی جیک کرنے یا اسے جان بوجھ کر تباہ کرنے کی کوشش کی آزادانہ طور پر تصدیق ابھی نہیں ہوسکی۔
فلائی دبئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پرواز کے کاک پٹ میں ایک واقعہ پیش آیا، تاہم عملے نے صورتحال پر قابو پایا، طیارے کا رخ تبدیل کیا اور اسے بحفاظت تبوک ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔ ایئرلائن نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی وجوہات اور محرکات کے بارے میں اس مرحلے پر حتمی معلومات دستیاب نہیں اور باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے کے بعد فلائی دبئی نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کے جائزے اور دونوں ممالک کے درمیان فضائی راستوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کے تناظر میں کیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ملک آنے والی پروازوں کے پائلٹس کی سیکیورٹی جانچ مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، اس اقدام کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات کے خطرے کو کم کرنا اور اسرائیل آنے والی ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
فلائی دبئی کی پرواز کا واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے بھی جاری ہیں۔ اس سے چند روز قبل اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید نے ابوظبی میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی، جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
تاہم پرواز میں پیش آنے والے واقعے کے اصل محرکات، مبینہ حملے کی نوعیت اور اس کے پس پردہ عوامل کے بارے میں حتمی نتائج تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔ فلائی دبئی نے بھی تمام متعلقہ فریقوں سے تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔







