جیل میں موجود سٹیل کے مگ سے تیار کیا گیا تیز دھار آلہ مبینہ طور پر حملے کے لیے استعمال ہوا۔ نتیجے میں ایک قیدی جان سے گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔کوٹ لکھپت میں پیش آئے واقعے کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ شام تقریباً ساڑھے سات بجے کوٹ لکھپت جیل کے اندر کمروں میں قیدیوں کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ ایک گروپ میں 42 سالہ محمد اشرف اور فلک شیر شامل تھے جبکہ دوسرے گروپ میں محمد عثمان عرف شانی، جاوید اقبال اور آصف محمود تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق ان قیدیوں میں سے بعض جیل کے کچن میں ہانڈی وال کے طور پر کام کرتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل ایک ساتھی قیدی ان سے الگ ہوگیا تھا اور اس کے بعد اس نے کھانا پینا بھی الگ کرلیا تھا۔
بدھ کی شب دوسرے گروپ کے ایک قیدی کو کھانا کھانے کے لیے چمچ اور پلیٹ نہیں ملی۔ اس پر اس نے لاک اپ میں بلند آواز گالم گلوچ شروع کردی۔ اس کے جواب میں پہلے گروپ سے الگ ہونے والے قیدی نے بھی گالم گلوچ کی جس کے بعد دونوں گروپ ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنیوالی جوڈیشل کمیشن کی مدت بڑھادی
پولیس کے مطابق اسی دوران محمد عثمان اور اس کے ساتھیوں نے سٹیل کے مگ سے تیار کیے گئے ایک تیزدھار آلے سے محمد اشرف اور فلک شیر پر حملہ کیا۔ حملے میں دونوں شد۔ید زخمی ہوگئے۔ جیل عملہ موقع پر پہنچا اور دونوں کو پہلے جیل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں لاہور کے جنرل ہسپتال لے جایا گیا تاہم محمد اشرف زخموں کی تاب نہ لاسکے اور ہسپتال میں دم توڑ گئے جبکہ فلک شیر زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔
پولیس نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کامران مقبول کی مدعیت میں تین نامزد قیدیوں کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ واقعے کا پنجاب کے محکمہ داخلہ نے بھی نوٹس لے لیا ہے۔ سیکریٹری داخلہ پنجاب نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین ڈی آئی جیز پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔







