پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرے اور جن معاملات کا حل سیاسی گفتگو کے ذریعے ممکن ہے، انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جائے، جو معاملات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، ان پر فیصلہ کرنا عدلیہ کا اختیار ہے اور تمام فریقین کو عدالتی فیصلوں کا انتظار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے لیے رابطے اور ملاقاتیں ضروری ہیں۔ یہ مناسب طرزِ عمل نہیں کہ وزیراعظم کو خط لکھا جائے لیکن ان سے ملاقات کرنے سے گریز کیا جائے،سیاسی معاملات پر بات چیت کے لیے کسی بھی مناسب جگہ بیٹھا جاسکتا ہے، اس لیے وزیراعظم آفس میں ملاقات سے انکار اور دوسری جگہ بات کرنے کی تجویز سیاسی روابط کو متاثر کرسکتی ہے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے اور اس مقصد کے لیے دونوں جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ ضروری ہے، حکومت سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتی، تاہم مذاکرات کو محض رسمی کارروائی کے بجائے کسی نتیجے تک پہنچنا چاہیے۔
عدالتی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے عدلیہ نے ہی کرنے ہیں، عدالت جو حکم جاری کرے گی، اس پر عمل درآمد بھی اسی کے دائرہ اختیار کے تحت ہوگا اور حکومت عدالتی فیصلوں کی پابند ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی سے متعلق سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سینئر ڈاکٹروں کے پینل نے ان کا معائنہ کیا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال کا جائزہ لینا اور علاج سے متعلق ضروری امور کو دیکھنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اصل معاملہ عمران خان کے علاج اور طبی معائنے کا تھا، جس کے لیے انہیں اسپتال لے جایا گیا، اگر عدالت اس حوالے سے مزید واضح ہدایات جاری کرتی ہے تو حکومت ان پر عمل کرنے کی پابند ہوگی۔
حکومتی مذاکراتی عمل اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اظہار کیا کہ سیاسی اختلافات کا حل احتجاجی سرگرمیوں کے بجائے بات چیت میں تلاش کیا جانا چاہیے، لانگ مارچ کی کال واپس لے کر مذاکرات کو آگے بڑھانا موجودہ سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی معاملات کو عدالتی فورمز پر اور سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، تاکہ ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔







