ویسے اگر دیکھا جائے تو باجا اپنی اصل میں کوئی قابل اعتراض شے نہیں ہے۔۔۔ بچے ہیں، خوش ہیں، جشن ہے، انہیں خوش ہونے دیجیے،،، مگر ہمارے ہاں ہر چیز کی ایک انتہا ہے اور یوم آزادی پر باجے کے معاملے میں شاید انتہا کا بھی ایک باپ پیدا ہو چکا ہے۔ بچہ صبح باجا لے کر نکلتا ہے دوپہر تک وہی باجا پھر شام کو وہی باجا اور رات کو بھی اگر باجا سلامت ہو تو اس کی خدمت میں مصروف رہتا ہے۔
والدین بھی غالباً اسے دیکھ کر یہی سمجھتے ہیں کہ بچہ وطن سے والہانہ محبت کا اظہار کر رہا ہے حالاں کہ اگر کبھی اس باجے کی آواز والدین کے کان کے قریب چند منٹ مسلسل بجا دی جائے تو عین ممکن ہے حب الوطنی کے تمام جذبات یکایک ماند پڑ جائیں۔ ہمارے ہاں شاید ایک عجیب اصول رائج ہے کہ جو تکلیف خود برداشت نہ کی جا سکے اسے دوسروں کے لیے جشن کا نام دے دینا چاہیے۔
پھر ہمارے نوجوان ہیں جنہوں نے یوم آزادی کے جشن کو ایک اور ہی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکالنا شاید اب ان کے نزدیک حب الوطنی کی وہ آخری منزل ہے جہاں پہنچ کر انسان کو کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔ موٹر سائیکل جب سائلنسر کے بغیر سڑک پر نکلتی ہے تو اس کی آواز اتنی پرشکوہ ہوتی ہے کہ دور بیٹھا شخص پہلے یہی گمان کرتا ہے کہ شاید کسی صنعتی علاقے میں مشینری کا کوئی بڑا حادثہ پیش آ گیا ہے لیکن جب چند لمحوں بعد ایک نوجوان جھنڈا لہراتا ہوا اس شور کے ساتھ نمودار ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہیں،،،، حضور والا وطن کی آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔ صاحب کے چہرے پر ایسی مسرت ہوتی ہے جیسے ابھی ابھی کسی دشمن کا قلعہ فتح کر کے لوٹے ہوں حالاں کہ حقیقت صرف اتنی ہوتی ہے کہ انہوں نے محلے کے پچاس گھروں کو یہ اطلاع دے دی ہے کہ ان کی موٹر سائیکل میں سائلنسر نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔
اس پورے منظر کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ شور کرنے والے کو اپنا شور کبھی شور محسوس نہیں ہوتا۔ اسے اپنی موٹر سائیکل کی آواز میں جوشے آزادی سنائی دیتا ہے جبکہ سننے والے میرے جیسے محب الوطن دل میں زور زور سے گندی گالیاں دیتے ہوں گے بس دل میں ہی کہیں وہ سن نا لے۔
غافل ازیں کہ کوئی مریض سو رہا ہو،، کسی گھر میں شیر خوار بچہ ہو،، کسی مزدور نے صبح سویرے روزی کے لیے نکلنا ہو یا کسی طالب علم کو اگلے دن امتحان دینا ہو،، جشن منانے والے نوجوان کے نزدیک یہ سب امور شاید قومی مفاد کے مقابلے میں غیر اہم ہیں۔ وہ بائیک کا ایکسیلیٹر گھماتا ہے اور پوری قوت سے باں باں کرتا ہوا گزر جاتا ہے اور پیچھے رہ جانے والے لوگ چند لمحوں تک ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہتے ہیں۔
اسی جشن کا ایک اور مظہر ون ویلنگ ہے جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ نوجوانوں نے زندگی کی قدر و قیمت کا حساب کچھ زیادہ ہی سستا لگا لیا ہے۔ ماں باپ نے جس اولاد کو برسوں دعاؤں محنت اور محبت سے پالا ہوتا ہے وہی اولاد ایک دن موٹر سائیکل کا اگلا پہیہ ہوا میں بلند کر کے یہ ثابت کرنے نکل پڑتی ہے کہ آج وطن آزاد ہوا ہے لہٰذا عقل کو بھی چند گھنٹوں کے لیے آزادی دے دی جائے۔ سڑک کے کنارے کھڑے لوگ سانس روکے یہ تماشا دیکھتے ہیں اور نوجوان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ہوتی ہے۔ اسے شاید اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ایک لمحے کی یہ نام نہاد بہادری اس کے والدین کو عمر بھر کا ماتم بھی دے سکتی ہے۔ خوشی کا وہ کون سا مفہوم ہے جس میں زندگی کو داؤ پر لگانا ضروری قرار پائے؟
ہوائی فائرنگ بھی ہماری اسی قومی نفسیات حصہ ہے شادی ہو، بیٹا پیدا ہو، کرکٹ میچ جیتا جائے یا یوم آزادی آئے، بعض حضرات کے نزدیک خوشی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک بندوق بھی اپنا حصہ نہ ڈال دے۔ حالاں کہ ہوا میں چلائی گئی گولی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ نیچے کس کا گھر ہے کس کی چھت ہے اور کس کا بچہ کھیل رہا ہے۔ وہ زمین پر واپس آتی ہے اور کبھی کبھی ایسی خوشی کو ماتم میں بدل دیتی ہے جس کا جشن منانے والے نے تصور تک نہیں کیا ہوتا۔
پٹاخے اور بلند آواز میں موسیقی بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے میں شاید ابھی کچھ وقت لگے گا کہ اجتماعی خوشی اور اجتماعی اذیت میں ایک باریک سا فرق ہوتا ہے۔ آپ کو رات بارہ بجے ملی نغمہ سن کر مسرت ہوتی ہے تو بہت خوب ہے بھئی مگر برابر والے گھر میں کوئی بیمار شخص اسی وقت سکون کی تلاش میں ہو تو آپ کی مسرت اس کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔
بھئی خوشی منائیے،، ضرور منائیے،، وطن کسی ایک طبقے یا نسل کی میراث نہیں ہے سب کا ہے اور اس لیے اس کی آزادی کی خوشی بھی سب کو منانی چاہیے۔ لیکن جشن کا حسن اسی وقت قائم رہتا ہے جب اس میں تہذیب شامل ہو۔ جھنڈا لہرانا محبت ہے،، قومی نغمہ گانا محبت ہے،، بچوں کو تاریخ بتانا محبت ہے،، اپنے شہروں کو صاف رکھنا محبت ہے اور اپنے ہم وطن کے سکون کا خیال رکھنا بھی محبت ہی کی ایک صورت ہے۔ محض اس لیے کہ آپ خوش ہیں یہ لازم نہیں کہ پوری بستی کو اپنی خوشی کا خمیازہ بھگتنا پڑے۔
تحریر: حامد لال







