کسی خاندان کے لیے اپنے پیارے کی موت کا صدمہ اپنی جگہ ایک قیامت ہے، لیکن لاش کا نہ ملنا اس صدمے کو غیر یقینی کے ایک طویل عذاب میں بدل دیتا ہے۔ ایک ماں، ایک باپ یا ایک بہن بھائی سے یہ کہنا آسان ہے کہ "صبر کریں"، لیکن ریاست کی ذمہ داری صرف صبر کی تلقین کرنا نہیں بلکہ اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر تلاش کو جلد از جلد نتیجے تک پہنچانا ہے۔ لواحقین کا صبر انتظامیہ کی کارکردگی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
تیز بہاؤ والی نہر میں لاپتہ ہونے والے شخص کے جائے حادثہ سے دور بہہ جانے کا امکان پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے حادثے میں سرچ آپریشن صرف اس مقام تک محدود نہیں رہ سکتا جہاں گاڑی پانی میں گری۔ سوال یہ ہے کہ حادثے کے پہلے گھنٹوں میں پانی کے بہاؤ کی سمت، رفتار اور نہر کی ساخت کو سامنے رکھتے ہوئے کتنے بڑے علاقے کو سرچ کے لیے مختص کیا گیا؟ کیا تمام ممکنہ ڈاؤن اسٹریم مقامات، پلوں، پلّیوں، بندوں اور پانی کی قدرتی رکاوٹوں کو بیک وقت سرچ کیا گیا؟ کیا قریبی اضلاع سے اضافی واٹر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر طلب کی گئیں؟ اور کیا جدید زیرِ آب سرچ آلات دستیاب تھے؟
ریسکیو اہلکاروں کی محنت کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ مشکل حالات میں غوطہ خوروں اور کشتیوں کے ذریعے تلاش جاری رکھنا ایک خطرناک کام ہے۔ لیکن ایک بڑے سانحے میں سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ اہلکار محنت کتنی کر رہے ہیں؛ سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا نظام نے انہیں مطلوبہ وسائل، افرادی قوت اور درست حکمت عملی فراہم کی؟ اگر ایک ٹیم اپنی پوری کوشش کر رہی ہو لیکن اس کے پاس مطلوبہ کشتیاں، غوطہ خور، زیرِ آب کیمرے، سرچ لائٹس اور دیگر آلات محدود ہوں تو مسئلہ اہلکاروں کی نیت نہیں بلکہ ادارہ جاتی تیاری کا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس سانحے کی تحقیقات میں صرف یہ نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ ریسکیو اہلکار کب پہنچے، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ پہلے ایک گھنٹے، پہلے چھ گھنٹے اور پہلے 24 گھنٹے میں انتظامیہ کے پاس کیا وسائل موجود تھے اور ان میں سے کتنے فوراً استعمال کیے گئے۔ اگر مزید ٹیمیں موجود تھیں تو انہیں کب طلب کیا گیا؟ اگر دوسرے اضلاع سے وسائل منگوانے پڑے تو وہ کتنے وقت میں پہنچے؟ اور اگر وسائل دستیاب ہی نہیں تھے تو جنوبی پنجاب کے ایسے علاقے میں مستقل واٹر ریسکیو صلاحیت کیوں موجود نہیں تھی جہاں وسیع نہری نظام موجود ہے؟
اس سانحے میں محکمہ آبپاشی کا کردار بھی ایک اہم سوال ہے۔ اگر نہر کا پانی تیز بہاؤ کے ساتھ جاری تھا تو کیا حادثے کے بعد پانی کم کرنے یا عارضی طور پر روکنے کا امکان فوری طور پر جانچا گیا؟ اگر ممکن تھا تو کیا کیا گیا؟ اگر ممکن نہیں تھا تو اس کی تکنیکی وجہ کیا تھی؟ اور اگر پانی کم کرنے سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا تو کیا اس ممکنہ نقصان کا موازنہ انسانی جانوں کے تحفظ سے کیا گیا؟
یہاں سوال فصل اور انسان میں سے کسی ایک کو غیر اہم قرار دینے کا نہیں۔ کسان کی فصل بھی اہم ہے، آبپاشی کا نظام بھی اہم ہے اور جنوبی پنجاب کی زراعت بھی انتہائی اہم ہے۔ لیکن ہنگامی صورت حال میں ریاست کو یہ واضح کرنا پڑتا ہے کہ اس کی ترجیح کیا ہے اور فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا۔ اگر چند گھنٹوں کے لیے پانی کم کرنے سے زرعی نقصان کا امکان تھا تو کیا اس نقصان کا تخمینہ لگایا گیا؟ کیا پانی کو مکمل بند کرنے کے بجائے جزوی طور پر کم کرنے کا آپشن موجود تھا؟ کیا کسی متبادل چینل یا گیٹ مینجمنٹ کے ذریعے سرچ آپریشن کو آسان بنایا جا سکتا تھا؟ اگر ایسے آپشن موجود تھے تو ان پر کیا فیصلہ ہوا؟
اب تک ایسی کوئی واضح سرکاری دستاویز سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ انتظامیہ نے فصلوں کو انسانی جانوں پر ترجیح دیتے ہوئے پانی بند نہیں کیا۔ اس لیے کسی مخصوص افسر یا ادارے کو بغیر تحقیقات کے قصوروار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ لیکن یہی معاملہ باقاعدہ انکوائری کا تقاضا ضرور کرتا ہے، کیونکہ اگر پانی کے بہاؤ کو کم کرنے کا کوئی قابل عمل طریقہ موجود تھا تو اس کا استعمال کیوں نہیں ہوا، اور اگر کوئی طریقہ موجود نہیں تھا تو عوام کو اس کی تکنیکی وجوہات کیوں نہیں بتائی گئیں؟
اس سانحے سے سب سے بڑا سبق یہ ہونا چاہیے کہ ریسکیو حادثے کے بعد شروع نہیں ہونا چاہیے، اس کی تیاری حادثے سے پہلے مکمل ہونی چاہیے۔ جنوبی پنجاب کے بڑے کینال بیلٹ میں مستقل واٹر ریسکیو اسٹیشنز قائم کیے جانے چاہئیں جہاں جدید کشتیاں، تربیت یافتہ غوطہ خور، زیرِ آب کیمرے، سرچ لائٹس، کمیونیکیشن سسٹم اور ضروری حفاظتی آلات ہر وقت دستیاب ہوں۔ کسی بڑے حادثے کے بعد لاہور، ملتان یا کسی دوسرے شہر سے وسائل پہنچنے کا انتظار کرنے کے بجائے مقامی ٹیمیں پہلے ہی چند منٹوں میں بڑے پیمانے پر سرچ شروع کرنے کے قابل ہونی چاہئیں۔
ہر خطرناک کینال کراسنگ کی الگ سے سیفٹی آڈٹ بھی ہونی چاہیے۔ جہاں گاڑی کے نہر میں گرنے کا خطرہ زیادہ ہے وہاں مضبوط حفاظتی بیریئرز، مناسب روشنی، وارننگ سائنز، رفتار کم کرنے کے انتظامات اور ضرورت کے مطابق حفاظتی رکاوٹیں نصب کی جائیں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ڈرائیور محتاط رہیں؛ ریاست کو بھی ایسے مقامات کو اس طرح محفوظ بنانا ہوگا کہ ایک انسانی غلطی فوری طور پر اجتماعی سانحے میں تبدیل نہ ہو۔
اس کے ساتھ ہر بڑے نہری نظام کے لیے ایک کینال ایمرجنسی پروٹوکول ہونا چاہیے۔ حادثہ ہوتے ہی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو، پولیس اور محکمہ آبپاشی ایک مشترکہ کمانڈ کے تحت کام کریں۔ پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا فوری طور پر حاصل کیا جائے، ممکنہ ڈاؤن اسٹریم سرچ زون چند منٹوں میں متعین کیا جائے، تمام دستیاب ریسکیو ٹیموں کو مختلف مقامات پر تقسیم کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر قریبی اضلاع سے پہلے ہی مرحلے میں اضافی وسائل طلب کیے جائیں۔
اس نظام میں ایک اور اہم چیز پانی کے بہاؤ کا ریئل ٹائم میپنگ سسٹم ہو سکتی ہے۔ اگر متعلقہ مقامات پر پانی کے بہاؤ، رفتار اور گیٹس کی صورتحال کا ڈیٹا فوری طور پر ریسکیو کمانڈ تک پہنچے تو سرچ ٹیمیں اندازے کے بجائے سائنسی بنیاد پر ممکنہ مقام کا تعین کر سکتی ہیں۔ اسی طرح ڈرونز، تھرمل کیمروں اور دیگر جدید سرچ ٹیکنالوجی کو بھی مقامی سطح پر دستیاب کرنا چاہیے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں بڑے آبی راستے موجود ہیں۔
مستقبل کے لیے سب سے ضروری چیز مشترکہ مشقیں ہیں۔ ریسکیو، پولیس، محکمہ آبپاشی، ضلعی انتظامیہ اور مقامی حکومت کو سال میں صرف کاغذی اجلاس نہیں بلکہ عملی واٹر ریسکیو مشقیں کرنی چاہئیں۔ فرضی حادثہ بنا کر یہ دیکھا جائے کہ اطلاع ملنے سے لے کر پہلی ٹیم کے پہنچنے، پانی کے بہاؤ کا تجزیہ کرنے، اضافی ٹیمیں بلانے، سرچ زون بنانے اور متاثرین کو نکالنے تک پورا نظام کتنے منٹ لیتا ہے۔ جہاں خامی سامنے آئے، اسے حقیقی حادثے کا انتظار کیے بغیر درست کیا جائے۔
یہاں جنوبی پنجاب کی محرومی کا سوال بھی اسی لیے اہم ہے۔ اگر اس خطے میں بڑے نہری نظام، دریا اور سیلابی راستے موجود ہیں تو یہاں واٹر ریسکیو کو ثانوی ضرورت نہیں بلکہ بنیادی انفراسٹرکچر سمجھا جانا چاہیے۔ وسائل صرف اس وقت جنوبی پنجاب نہ پہنچیں جب کوئی سانحہ ہو جائے۔ وسائل سانحے سے پہلے یہاں موجود ہونے چاہئیں۔
ترقی کا مطلب صرف نئی سڑک، پل یا عمارت بنانا نہیں۔ ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب کسی شہری کی جان خطرے میں ہو تو ریاست کے پاس اسے بچانے کے لیے چند منٹوں میں مطلوبہ مشینری، تربیت یافتہ افراد اور واضح حکمت عملی موجود ہو۔ اگر جنوبی پنجاب کے شہریوں کو یہ سہولت حاصل نہیں تو پھر ترقی کے دعووں کے ساتھ انسانی تحفظ کا سوال بھی کھڑا رہے گا۔
مظفرگڑھ کینال سانحے کی تحقیقات اس لیے ضروری ہیں کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کہاں انتظامی غفلت ہوئی، کہاں فیصلہ سازی میں تاخیر ہوئی اور کہاں وسائل کم پڑے۔ لیکن اس تحقیق کا مقصد صرف کسی ایک افسر کو ذمہ دار ٹھہرا کر فائل بند کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ تحقیق کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اگلی بار ایسی صورت حال پیدا ہو تو نظام پہلے سے تیار ہو۔
تین بچے ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ان کے خاندانوں کے لیے ہر گزرتا گھنٹہ ایک سوال ہے۔ انہیں صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ریسکیو ٹیمیں تلاش کر رہی ہیں؛ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کتنے علاقے میں تلاش ہوئی، کتنے وسائل استعمال ہو رہے ہیں، مزید کون سی ٹیمیں بلائی گئی ہیں اور تلاش کو مکمل کرنے کے لیے اگلا قدم کیا ہے۔ شفاف معلومات بھی بحران کے انتظام کا حصہ ہیں۔
آج حکومت کے سامنے دو ذمہ داریاں ہیں۔ پہلی، تینوں لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے دستیاب ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا جائے اور سرچ آپریشن کو اس وقت تک مؤثر رکھا جائے جب تک تمام ممکنہ مقامات مکمل طور پر تلاش نہ کر لیے جائیں۔ دوسری، اس پورے سانحے کی ایسی انتظامی تحقیقات کی جائیں جس میں حادثے سے پہلے کی حفاظتی خامیوں سے لے کر حادثے کے بعد کے ریسپانس، پانی کے بہاؤ، وسائل کی دستیابی اور فیصلہ سازی تک ہر مرحلے کا جائزہ لیا جائے۔
کیونکہ اگلی مصیبت کا انتظار کرنا انتظام نہیں، ناکامی کی تیاری ہے۔
مظفرگڑھ کینال میں جو کچھ ہوا اسے صرف ایک افسوسناک حادثہ سمجھ کر بھلا دیا گیا تو شاید کچھ عرصے بعد کسی دوسری نہر، کسی دوسرے پل اور کسی دوسرے خاندان کے ساتھ یہی کہانی دوبارہ لکھی جائے گی۔ لیکن اگر آج اس سانحے سے سبق لے کر مستقل واٹر ریسکیو مراکز، محفوظ کینال کراسنگز، فوری کمانڈ سسٹم، جدید سرچ ٹیکنالوجی، پانی کے بہاؤ کی ہنگامی مینجمنٹ اور مقامی سطح پر تربیت یافتہ ٹیمیں قائم کر دی جائیں تو ان تین بچوں کی تلاش ایک بڑے انتظامی سبق میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
اور شاید یہی ان خاندانوں کے دکھ کے ساتھ انصاف کا کم از کم تقاضا ہے کہ ان کے پیارے واپس نہ بھی آ سکیں تو ان کے بعد کسی اور ماں کو اپنے بچے کی لاش کے لیے تین دن انتظار نہ کرنا پڑے۔
ریاست سے صرف یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ "لاشیں کب ملیں گی؟"اصل سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ "اگلی بار جان بچانے کے لیے نظام پہلے سے کب تیار ہوگا؟"
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







