ملک بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات اور جشن کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔ لاہور کے لبرٹی چوک میں پنجاب حکومت کی جانب سے خصوصی طور پر جشنِ آزادی کی تقریب کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں قومی پرچم، سبز ہلالی پرچموں اور برقی قمقموں سے خصوصی سجاوٹ کی گئی ہے۔
دوسری جانب ملک بھر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سیاستدانوں اور دیگر شخصیات کی جانب سے قوم کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، پاکستان کا قیام اللہ تعالیٰ کا عظیم معجزہ اور برصغیر کے مسلمانوں سمیت عالم اسلام کے لیے انعام ہے۔
اپنے پیغام میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ علامہ محمد اقبال نے ایک مسلم ریاست کے قیام کا خواب دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد مسلمانوں کو انگریز کی غلامی اور ہندوؤں کی بالادستی سے نکال کر ایسی آزاد اور خودمختار مملکت قائم کرنا تھا جہاں مسلمان اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے لیے قوم نے اجتماعی جدوجہد کی اور لاکھوں افراد نے قربانیاں دیں، تاہم ہم نے اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے اس احسان اور انعام کی قدر نہیں کی اور ملک میں اس نظام کو نافذ نہیں کرسکے جس کا قیام پاکستان کے وقت وعدہ کیا گیا تھا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انگریز تو چلا گیا لیکن اس کے ذہنی غلاموں نے ملکی اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ آج بھی وہی نظام مسلط ہے جس سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا۔
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری آئی ایم ایف کے ہاتھ گروی رکھ دی گئی ہے جبکہ ملک پر مسلط حکمران قومی مفاد اور وقار کے برخلاف امریکی مفاد میں فیصلے کر رہے ہیں۔ ملک پر اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی، جاگیرداروں اور وڈیروں کا قبضہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان بھاری قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، اس کے باوجود عام آدمی تعلیم، صحت اور روزگار جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور بڑی تعداد میں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔







