تہران میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران محسن رضائی نے علاقائی معاملات میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بڑھتے ہوئے کردار اور سرگرمیوں کا خیرمقدم کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور انڈونیشیا جیسے بڑے مسلم ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی دنیا میں مزید اتحاد اور یکجہتی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایرانی عوام اور ایران کے لیے پاکستانی عوام کی محبت اور اپنائیت دنیا میں بے مثال ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات حقیقی محبت، مشترکہ اقدار اور باہمی اعتماد پر قائم ہیں۔

محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں کئی گنا اضافہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایران اور پاکستان کو ایک دوسرے کا اسٹریٹجک معاون قرار دیتے ہوئے باہمی تعاون مزید بڑھانے پر زور دیا۔

ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہا۔

محسن نقوی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات گزشتہ چند ماہ کے دوران مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود غیر معمولی محبت اور یکجہتی کو مزید عملی تعاون اور باہمی روابط میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایران اور پاکستان کو مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے رابطے اور مسلسل کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی قیادت اور حکام کے عزم سے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

محسن نقوی منگل کو سرکاری دورے پر تہران پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا سے جنگ بندی میں توسیع پر کوئی مذاکرات نہیں ہوئے، ایرانی عہدیدار

خیال رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں نئی سکیورٹی صف بندی پر بھی بحث جاری ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے حال ہی میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایران مخالف اقدام قرار دینے کے بجائے خطے کے ممالک کی جانب سے اپنے سکیورٹی تعلقات پر نظرثانی کے وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا تھا۔

7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔